.

روس اور ایران لازمی طور پر اِدلب میں بشار فوج کے حملے روکیں : ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو نے بدھ کے روز کہا ہے کہ روس اور ایران پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذمّے داریوں کو پورا کریں اور شام کے صوبے اِدلب میں بشار کی فوج کے حملوں کو روکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شامی حکومت کی خلاف ورزیاں ان دونوں ممالک کی سپورٹ کے بغیر ممکن نہیں۔

اوگلو نے ترک نیوز ایجنسی "اناضول" کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ جو ممالک شام کے حوالے سے ترکی کے نقطہ نظر سے متفق ہیں اُن کا ایک اجلاس انقرہ میں منعقد کیا جائے گا۔ یہ اجلاس رواں ماہ کے اواخر میں روس کے شہر سُوشی میں شامی قومی مکالمہ کانفرنس کی میزبانی کے بعد ہو گا۔

اس سے قبل اوگلو نے منگل کے روز کہا تھا کہ شامی فوج اِدلب صوبے میں اپوزیشن فورسز کو حملوں کا نشانہ بنا رہی ہے اور یہ اقدام شام کے تنازع میں کسی بھی سیاسی تصفیے تک پہنچنے کے لیے جاری کوششوں کو سبوتاژ کر دے گا۔

یاد رہے کہ شام میں سات برسوں سے جاری جنگ کے دوران ترکی شامی صدر بشار الاسد کے سخت خلاف موقف کا حامل رہا ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں وہ تنازع کے کسی سیاسی حل تک پہنچنے کے واسطے اپنے دو حلیفوں روس اور ایران کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔