.

گرفتاری کا خوف، خامنہ ای کا ’ممکنہ‘ جانشین جرمنی سے بھاگ نکلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی گارڈین کونسل کے چیئرمین اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا ممکنہ جانشین آیت اللہ محمود ھاشمی شاھرودی جرمنی میں گرفتاری کے خوف سے علاج ادھورا چھوڑ کر بھاک نکلا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شاھرود ہاشمی پر ایران میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام ہے اور ان کے خلاف جرمنی کی عدالتوں میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت مقدمات قائم کرنے کی درخواستیں دی گئی ہیں۔

آیت اللہ شاھرودی ایران میں حالیہ حکومت مخالف تحریک سے قبل علاج کے لیے جرمنی کے شہر ھانوفر کے ایک اسپتال میں پہنچے تھے۔

امریکا سے فارسی میں نشریات پیش کرنے والے ’فردا‘ ریڈیو کی ویب سائیٹ کے مطابق شاھرودی جمعرات کی شام جرمنی میں اپنا علاج ادھورا چھوڑ کر واپس ایران روانہ ہوگئے تھے۔ ان کی اچانک واپسی کے پیچھے ان کی ممکنہ گرفتاری اور جیل میں بند کیے جانے کے خدشات ہیں۔

خبر رساں ادارے’رائٹرز‘ نئ جرمنی کے ایک سرکاری ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر کے ممکنہ جانشین اور گارڈین کونسل کے چیئرمین اپنی گرفتاری کےڈر سے ایران واپس چلے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ چند روز قبل جرمنی میں ایران میں جاری عوامی احتجاج کی حمایت میں والے احتجاج کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مظاہرے کیے گئے۔ اس موقع پر جس اسپتال میں شاھرودی زیرعلاج تھے اس کےباہر بھی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے شاھرودی کی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں ملوث ہونے پر گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

ادھرجرمن پراسیکیوٹرجنرل نے انکشاف کیا ہے کہ آیت اللہ شاھرودی کے خلاف ایک شکایت کی گئی ہے۔

ایرانی مزاحمتی کونسل ’مجاھدین‘ خلق کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ آیت اللہ شاہرودی نے ہزاروں کی تعداد میں اپوزیشن کارکنوں کی موت کی سزاؤں کے احکامات جاری کیے ہیں۔