.

حوثی ملیشیا کے پاس ہتھیار ہیں،انھیں چلانے کے لیے رجال نہیں: یمنی وکیل

مقتول سابق صدر علی عبداللہ صالح کے ساتھ دھوکا کیا گیا تھا، بعض شخصیات نے ان سے غداری کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے مقتول سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وکیل محمد المسوری نے کہا ہے کہ حوثی ملیشیا کے پاس ہتھیار تو بہت ہیں لیکن انھیں چلانے کے لیے تربیت یافتہ افراد نہیں ہیں۔ اس لیے اس نے اب افرادی قوت کو پورا کرنے کے لیے اسکولوں میں کم عمر طلبہ کی جبری بھرتی شروع کررکھی ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ حوثی گروہ کی موجودہ صورت حال اس سے چھٹکارے کا ایک موقع فراہم کرتی ہے۔البتہ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ حوثی گروپ پر ہرگز بھی بھروسا نہیں کیا جاسکتا اور اگر مستقبل میں اس کے ساتھ کوئی اتحاد قائم کیا جاتا ہے تو یہ خطرناک اور مایوس کن ثابت ہوگا۔

انھوں نے العربیہ کے سسٹر چینل الحدث کے نام ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ’’بعض شخصیات نے غداری کا ارتکاب کیا تھااور انھوں نے مقتول صدر علی عبداللہ صالح کے ساتھ دھوکا کیا تھا ۔اس سلسلے میں جلد ہر چیز کی وضاحت کی جائے گی‘‘۔ان کا اشارہ شاید حوثی ملیشیا اور سابق حکمراں جماعت جنرل پیپلز کانگریس کے بعض لیڈروں کی جانب تھا۔

ان کے اس بیان سے قبل بھی متعد د ایسی رپورٹس منظرعام پر آ چکی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ حوثیوں کو یمن میں سرکاری فوج کے خلاف جنگ میں جھونکنے کے لیے بھرتی کا بحران سامنا ہے۔اس لیے اس نے اب اسکولوں سے طلبہ کے علاوہ عام شہریو ں کو جبری بھرتی کرنا شروع کردیا ہے اور انھیں محاذ جنگ پر بھیجا جارہا ہے۔

یمنی ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیا نے فوجی کمیشنوں کو حکم دیا ہے کہ فوج کے علاوہ وزارت داخلہ اور دفاع کے تحت سکیورٹی فورسز میں اپنے نام رجسٹر کرانے والے تمام افراد کو محاذ جنگ پر جانے پر مجبور کیا جائے اور اگر وہ انکار کرتے ہیں تو ان کے نام فوج سے خارج کردیے جائیں۔