.

لیبیا سے مراکشی شہریوں کی وطن واپسی کے لیے تیسرا ’’خصوصی آپریشن‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مراکش نے لیبیا میں پھنسے ہوئے اپنے شہریوں کی وطن واپسی کے لیے تیسرا اور آخری آپریشن شروع کردیا ہے۔

مراکش کی تارکین وطن اور مائیگریشن کی وزارت نے جمعہ کو لیبیا سے 338 تارکین وطن کو واپس لانے کے لیے اس آپریشن کا آغاز کیا تھا لیکن اس نے تاہم اس نے یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ آپریشن کب مکمل ہوگا۔

وزارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان تارکین ِوطن کو لیبیا کی فضائی کمپنی افریقیہ کی پرواز کے ذریعے کیسا بلانکا لایا جارہا ہے اور پھر وہاں سے بسوں کے ذریعے ان کے آبائی قصبوں اور دیہات میں منتقل کیا جائے گا۔

مراکش نے قبل ازیں گذشتہ سال اگست اور دسمبر میں لیبیا سے اپنے 435 شہریوں کو خصوصی پروازوں کے ذریعے ملک میں منتقل کیا تھا۔

واضح رہے کہ 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی ہلاکت اور حکومت کے خاتمے کے بعد سے لیبیا غیر ملکی تارکینِ وطن کے یورپ پہنچنے کے لیے ایک درمیانی منزل بن چکا ہے۔افریقی ممالک اور بالخصوص سب صحارا کے خطے سے تعلق رکھنے والے تارکین ِ وطن پہلے کسی نہ کسی طریقے سے لیبیا پہنچتے ہیں اور پھر وہاں سے وہ غیر محفوظ چھوٹے جہازوں یا کشتیوں کے ذریعے پُرخطر سمندری راستے سے یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں اور بیشتر راستے ہی میں سمندری لہروں کی نذر ہوجاتے ہیں یا یورپی ممالک کے ساحلی محافظوں کے حملوں کی زد میں آ جاتے ہیں۔

لیبیا میں کوئی ایک مرکزی حکومت نہ ہونے کی وجہ سے طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے اور حال ہی میں غلاموں کی فروخت سے متعلق بھی رپورٹس سامنے آئے ہیں جس کے بعد تارکینِ وطن کی صورت حال پر بین الاقوامی توجہ مرکوز ہوئی ہے۔ لیبیا نے غیر قانونی تارکین وطن کے لیے تیس حراستی مرکز قائم کررکھے ہیں جہاں اس وقت قریباً پندرہ ہزار افراد زیر حراست ہیں۔ بین الاقوامی تنظیم برائے تارکین وطنِ نے لیبیا سے ان تمام حراستی مراکز کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔