.

انڈونیشیا اسٹاک ایکس چینج کی عمارت کی نچلی منزل گر گئی ، 70 افراد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں اسٹاک ایکس چینج کی عمارت کی نچلی منزل ( بالکونی) کی چھت گر گئی ہے جس کے نتیجے میں متعدد طلبہ سمیت ستر سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس نے میزنائن فلور کی چھت گرنے کے واقعے میں بم دھماکے کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔اس نے ستر سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے لیکن کسی شخص کے مرنے کی اطلاع نہیں دی۔ زخمی طلبہ ایک جامعہ میں زیر تعلیم ہیں اور وہ واقعے کے وقت میز نائن فلو ر پر موجود تھے۔

اسٹاک ایکس چینج کی بلندوبالا عمارت جکارتہ کے کاروباری علاقے میں واقع ہے اور یہ دو ٹاوروں پر مشتمل کمپلیکس کا حصہ ہے۔اس میں عالمی بنک سمیت دسیوں اور اداروں کے دفاتر بھی قائم ہیں۔ یہ عمارت 1990ء کے عشرے کے آخیر میں تعمیر کی گئی تھی۔ اس پر ستمبر 2000ء میں جنگجوؤں نے ایک کار بم حملہ بھی کیا تھا۔

جکارتہ کے گورنر انیس باسویدان نے جائے حادثہ کا دورہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’ عمارت کا آڈٹ ‘‘ کیا جائے گا۔حکام نے گذشتہ سال مئی میں آخری مرتبہ اس کا معائنہ کیا تھا۔

انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ میں نے عمارت کی انتظامیہ سے کہہ دیا ہے کہ تعمیر کا آڈٹ آج رات ہی شروع ہوجانا چاہیے تاکہ اسٹاک ایکس چینج کی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں‘‘۔

واضح رہے کہ انڈونیشیا میں عمارتوں کی تعمیر کے وقت تحفظ کے معیارات کا کم ہی خیال رکھا جاتا ہے اور عمارتی قواعد وضوابط کی پابندی نہیں کی جاتی ہے۔گذشتہ سال جکارتہ کے نواح میں واقع ایک فیکٹری میں آگ لگ گئی تھی جس سے پچاس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔پولیس نے اس واقعے کی تحقیقات کے بعد اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ فیکٹری میں تحفظ کے کئی ایک معیارات کی سنگین خلاف ورزی کی گئی تھی۔ انڈونیشیا کی تاریخ میں کسی فیکٹری میں پیش آنے والا یہ ایک بد ترین واقعہ تھا۔