.

ایرانی جوڈیشل کونسل کا سربراہ امریکی پابندیوں کا ھدف کیوں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں امریکی حکومت نے ایران کے 14 اداروں اور شخصیات پر نئی اقتصادی پابندیاں عاید کیں۔ ان پابندیوں میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی ساتھی اور جوڈیشل کونسل کے چیئرمین آیت اللہ صادق لاری جانی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ صادق لاری جانی بھی ممکنہ طور پر سپریم لیڈر کے جانشین ہوسکتے ہیں۔ وہ موجودہ سپریم لیڈر کےانتہائی قریب اور ملک کے مذہبی اور شدت پسند حلقوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

بہت سے دوسرے ایرانی لیڈروں کی طرح صادق لاری جانے پر بھی ملک میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔ انہوں نے جیلوں میں قید ہزاروں کی تعداد میں قیدیوں کی سزائے موت کے پروانوں کی منظوری دی۔ سزائے موت پانے والوں میں خواتین اور کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔ ان قیدیوں کے خلاف عدالت کے بند کمروں میں مقدمات چلائے اور انصاف کے عالمی تقاضوں سے ماوراء انہیں کڑی سزائیں دی گئیں۔ یہ سلسلہ اب بھی بدستور جاری ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں جوڈیشل کونسل کی جانب سے قیدیوں کو دی جانے والی سزائوں پر بار بار آواز بلند کرچکی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایرانی رجیم کے اس اہم کل پرزے پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 59 سالہ صادق آملی لاری جانی کو سنہ 2009ء میں محمود ھاشمی شاھرودی کی جگہ جوڈیشل کونسل کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ شاھرودی کو ملک میں گارڈین کونسل کا سربراہ لگایا دیا۔

جوڈیشل کونسل کاعہدہ سنھبالنے سے قبل موصوف سنہ 2001ء سے 2009 تک نو سال دستوری کونسل کے رکن رہے۔ ان پر مظاہرین کو حراست میں لینے پرامن مظاہروں کو طاقت سے کچلنے اور اپوزیشن پر کڑی نظر رکھنے کے ساتھ ان پر پابندیاں عاید کرنے کے الزامات عاید کیے جاتے ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ دعویٰ کرتے ہیں کہ صادق آملی لاری جانے ملزمان سے جرمانے وصول کرتے ہیں اور ان جرمانوں کو جمع کرنے کے لیے انہوں نے 63 بنک کھاتے کھول رکھے ہیں جہاں انہوں نے قریبا 3 کروڑ ڈالر کی رقم جمع کی ہے۔

احتجاج کچلنے میں کردار

ایان سے فارسی میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی ’ون‘ کی رپورٹ کے مطابق جوڈیشل کونسل کے سربراہ صادق آملی لاری جانے نے حالیہ احتجاجی تحریک کےدوران مظاہرین کو طاقت سے کچلنے کے لیے احکامات صادر کیے اور حکم دیا کہ مظاہرین کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے۔

انہوں نے سیکیورٹی فورسز، پولیس اور عدلیہ کو تاکید کی کہ وہ مظاہرین کو قانون ہاتھ میں لینے سے سختی سے روکیں۔ ان کے ان احکامات کے بعد پولیس کے وحشیانہ تشدد سے زیر حراست پانچ مظاہرین کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا۔

املاک اور اراضی پرغاصبانہ قبضے

ایران کی موجودہ جوڈیشل کونسل کے سربراہ صادق آملی لاری جانی کو ملک میں املاک اور اراضی پرقبضہ مافیا کا سرغنہ قرار دیا جاتا ہے۔ سابق صدر محمود احمدی نژاد متعدد بار صادق آملی لاری جانی ، ان کے بھائیوں اور دیگر اقارب پر سرکاری اور نجی املاک ضبط کرنے اور اراضی پر غاصبانہ قبضوں کا الزام عاید کرچکے ہیں۔ سابق صدر کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کونسل کے سربراہ صادق لاری جانی، ان کے بھائی اسیپکر علی لاری جانی، عدلیہ کے معاون جواد لاری جانی اور فاضل لاری جانی نے مختلف حربوں کے ذریعے سرکاری اور غیر سرکاری املاک پر قبضے کیے اور وسیع پیمانے پر لوٹ مار کرتے رہے۔

لاری جانی کی بیٹی کا جاسوسی اسکینڈل

ایران میں اصلاح پسند حلقوں کی جانب سے چند ہفتے قبل چونکا دینے والا انکشاف کیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ صادق لاری جانی کی صاحبزادی زھراء لاری جانی کےدوسرے ممالک کے خفیہ اداروں کے ساتھ روابط ہیں۔ اس اسکینڈل کے منظرعام پر آنے کےبعد ایران کے اداروں میں شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔ اس واقعے کے بعد جوڈیشل کونسل کےسربراہ نے انتقامی کارروائی کرتے ہوئے ٹیلی گرام کی سروس بند کردی تھی۔ خیال رہے کہ ایران میں 4 کروڑ سےزاید افراد ٹیلی گرام کی سروس سے منسلک ہیں۔

صادق لاری جانی کون ہیں؟

صادق آملی لاری جانی کا شمار ایران کے پرتشدد دھارے سے ہوتا ہے۔ صادق اور ان کے تین بھائی ایرانی رجیم کے اہم ترین فراد شمار کیے جاتے ہیں اور آیت اللہ علی خامنہ ای کے مصاحبوں میں شامل ہیں۔ صادق آملی لاری جانی سنہ 1960ء کو عراق کے شہر نجف میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد آیت اللہ مرزا ہاشم آملی ایران میں ایک مذہبی مدرسے میں استاد تھے۔ مگر سنہ 1931ء میں ایرانی بادشاہ رضا شاہ کے دباؤ پر وہ نجف منتقل ہوگئے اور قریبا تین عشرے وہیں قیام کیا۔ وہ اپنے خاندان کے ہمراہ 1961ء میں ایران واپس ہوئے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای نے صادق آملی لاری جانی کوجوڈیشل کونسل کا سربرہ مقرر کیے جانے کے بعد اس پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ صادق عالم، فاضل اور نوجوان مجتھد ہیں۔ یہ قم کے دینی مرکز سے سند یافتہ ہیں اور دینی اور عصری علوم میں یکساں مہارت رکھتے ہیں۔

صادق لاری جانی کا خاندان ’بردمہ‘ کہلاتا ہے جو مازندران ضلع سے 70 کلو میٹر دور لاری جان میں آباد ہے۔

عدلیہ، پارلیمان اور اقتصادیات

صادق آمل لاری جانی کو جوڈیشل کونسل کا سربراہ منتخب کیے جانے سے قبل بھی متعدد اہم عہدوں پر فائز کیا جاتا رہا ہے۔

لاری جانی خاندان کے پہلے سے ایرانی عدلیہ میں گہرے تعلقات اور رسوخ رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس خاندان کی ایران میں اقتصادی اور تجارتی سرگرمیاں بھی عروج پر رہیں۔ ان کے ایک چھوٹے بھائی محمد جواد ارشیر لاریجانی کو عدلیہ کا معاون مقرر کیا گیا۔ جب کہ بڑے بھائی علی لاری جانی کو 2008ء میں پارلیمنٹ کا اسپیکر بنایا گیا تھا۔ ان کے چوتھے بھائی باقر لاری جانی تہران میڈیکل سائنس یونیورسٹی میں ایڈوائزر ہیں اور پانچویں بھائی فاضل لاری جانی وزارت خارجہ کے اہم سفارت کار ہیں۔ آیت اللہ صادق لاری جانی اور ان کے دو دیگر بھائیوں پر بدعنوانی کے الزامات بھی عاید کیے جاتے رہے ہیں۔