.

دو روز کے سکون کے بعد تیونس میں دوبارہ پرتشدد مظاہرے

پولیس کی جانب سے مظاہرین کے خلاف آنسوگیس کا استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک تیونس میں مہنگائی کے خلاف گذشتہ ہفتے ہونے والے مظاہروں میں دو دن کے وقفے کے بعد کل اتوار کو دوبارہ ملک کے کئی شہروں میں پرتشدد احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ دوسری جانب پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان کے خلاف طاقت کا استعمال کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے مظاھرین کو بھگانے کے لیے ان پر لاٹھی چارج اور آنسوگیس کی شیلنگ کی۔

تیونس میں گذشتہ سوموار کو پرتشدد مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ ان مظاہروں کے دوران توڑپھوڑ، لوٹ مار، جلاؤگھیراؤ اور دیگر پرتشدد حربے استعمال کیے گئے۔ مظاہرین حکومت کی طرف سے عاید کردہ نئے ٹیکسوں کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ تیونس کی حکومت نے رواں سال کے آغاز پر بعض نئے ٹیکس لاگو کیے تھے جن کےباعث غریب عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا تھا۔ اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے اور معاشی نا ہمواری کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے۔

جمعہ اور ہفتہ کے ایام میں تیونس میں نسبتا خاموشی رہی۔ کل اتوار کو دارالحکومت تیونسیہ میں شہریوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے ٹائر جلا کر سڑکیں بند کردیں۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے ان پر اشک آور گیس کی شیلنگ کی۔

خبر رساں ادارے’رائٹرز‘ کے مطابق تیونس میں نئے ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف کل اتوار کو پرتشدد مظاہرے ہوئے۔ دوسری جانب پولیس نے بھی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر طاقت کا استعمال کیا۔