.

لندن میں امریکی سفارت خانے کی نئی عمارت کی لاگت 125 ارب روپے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لندن میں امریکی سفارت خانے کی پرانی عمارت کی سستے داموں فروخت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناراضگی سامنے آنے کے بعد سفارت خانے کے متعلق خبریں میڈیا کی زینت بن گئیں۔

ٹرمپ نے اپنا مقررہ دورہ برطانیہ منسوخ کر دیا جس کے دوران انہیں امریکی سفارت خانے کی نئی عمارت کا افتتاح کرنا تھا۔ ٹرمپ نے اپنی ٹوئیٹ میں بتایا کہ انہوں نے اپنا دورہ ختم کر دیا تا کہ سفارت خانے کی نئی عمارت کے افتتاح میں شرکت سے گریز کیا جا سکے۔ انہوں نے پرانی عمارت کی فروخت اور نئی عمارت کی تعمیر کو ایک "بُرے سمجھوتے" کا نتیجہ قرار دیا جو سابق صدر باراک اوباما کے دور حکومت کے دوران طے پایا گیا۔

لندن کے وسطی علاقے میں امریکی سفارت خانے کی پرانی عمارت برطانوی دارالحکومت کے اہم ترین مقامات میں شمار ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے پراپرٹی کی دنیا کے سابق ماہر ڈونلڈ ٹرمپ اس کی فروخت کے معاملے پر غیض و غضب میں آ گئے۔ ان کے نزدیک اس تاریخی عمارت سے "اونے پونے" داموں جان چھڑائی گئی۔

مذکورہ تاریخی اور روایتی عمارت کے دروازے رواں ماہ نو جنوری سے آنے والوں کے لیے بند کر دیے گئے۔ سفارت خانے کا تمام عملہ مکمل طور پر لندن کے دریائے ٹیمز کے کنارے واقع علاقے میں نئی عمارت میں منتقل ہو چکا ہے۔ اس نئی عظیم الشان عمارت پر 1.2 ارب امریکی ڈالر لاگت آئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی جانب سے جمع کردہ معلومات کے مطابق امریکی سفارت خانے کی پرانی عمارت کئی برس قبل قطری کمپنی "دیار" کو 43.1 کروڑ امریکی ڈالر میں فروخت کر دی گئی جب کہ پراپرٹی ماہرین کے مطابق اس عمارت کی قیمت 68.7 کروڑ ڈالر کے قریب تھی۔

امریکی سفارت خانے کی پرانی عمارت لندن کے پُرتعیش علاقے "مے فیئر" میں واقع ہے۔ اس کے نزدیک متعدد اہم عرب اور غیر ملکی سفارت خانے بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے کئی مشہور اور مہنگے ترین فائیو اسٹار ہوٹلز بھی اس علاقے میں پائے جاتے ہیں۔ عمارت کے نزدیک دنیا بھر میں مشہور "ہائیڈ پارک" واقع ہے۔

برطانوی میڈیا سے حاصل معلومات کے مطابق امریکی سفارت خانہ 1938 میں اس علاقے میں "گروزوینر اسکوائر" کی عمارت نمبر 1 میں منتقل ہوا۔ اس کے بعد 1960 میں تعمیر کی جانے والی ایک عظیم الشان عمارت میں منتقل کر دیا گیا، اس عمارت کا نمبر 24 تھا۔ چند روز قبل سفارت کاروں کے کوچ تک سفارت خانہ اسی عمارت میں باقی رہا۔

سفارت خانے کی نئی عمارت

امریکی سفارت خانے کی نئی عمارت ایک اور اہم تعمیراتی شاہ کار ہے۔ یہ براعظم یورپ کی سطح پر مہنگا ترین پراپرٹی منصوبہ ہے جس پر امریکیوں کے ایک ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہو گئے۔

امریکی سفارت خانے کی نئی عمارت لندن کے دریائے ٹیمز کے جنوبی کنارے ایک وسیع و عریض پلاٹ پر واقع ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی مِرر کے مطابق 12 منزلہ یہ عمارت حتمی طور پر "دنیا کا مہنگا ترین سفارت خانہ" ہے۔

امریکی سفارت خانے کو وسطی لندن کی تاریخ میں سب سے زیادہ مامونیت پر مبنی سکیورٹی خدمات حاصل ہیں۔ عمارت کے گرد 8 فٹ بلند آبی رکاوٹیں ہیں۔ ان کے علاوہ عمارت کے گرد دفاعی دیواریں بھی موجود ہیں جن کو خوب صورت نظر آنے والے آبشاروں سے ڈھانپا گیا ہے۔

سفارت خانے کی عمارت کے تمام اطراف 100 فٹ تک کوئی دوسری عمارت یا سڑک نہیں ہے۔

اگرچہ نئی عمارت باہر سے شیشے کی ہے تاہم اس سلسلے میں بلٹ پروف اور دھماکے میں محفوظ رہنے والے خصوصی شیشے کا استعمال کیا گیا ہے۔

لندن میں موجود سفارت خانے کی نئی عمارت پر امریکی پرچم 12 جنوری کو لہرایا گیا۔ اس طرح لندن میں امریکی سفارت خانے کے دفاتر 58 برس میں پہلی مرتبہ اپنے روایتی صدر دفتر سے منتقل ہوئے۔