.

میں نسل پرست نہیں ہوں : ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود پر نسل پرستی کے الزام کو مسترد کر دیا ہے۔

اتوار کی شام فلوریڈا میں ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "نہیں.. میں نسل پرست نہیں ہوں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی جتنے لوگوں سے ملاقات ہو گی اُن میں، میں سب سے کم نسل پرست انسان ہوں"۔

اس سے قبل میڈیا نے ٹرمپ کا ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انہوں نے وہائٹ ہاؤس میں ایک اجلاس کے دوران ہیٹی اور افریقہ کے مہاجرین کے بارے میں کہا تھا کہ ان کا تعلق "ادنی ترین ممالک" سے ہے۔

ٹرمپ نے اس امر کی تردید کی کہ انہوں نے اپنی جانب منسوب بیان کے الفاظ ادا کیے۔ اجلاس میں شریک قانون ساز شخصیات نے بھی باور کرایا کہ ٹرمپ نے ہیٹی اور افریقہ کے بارے میں نسل پرستی پر مبنی کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

واشنگٹن میں افریقی یونین کے مشن نے ٹرمپ کے بیان کی مذمت کی۔ اس حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ "افریقی یونین اس تبصرے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ ساتھ ہی اس تبصرے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس کے علاوہ نہ صرف افریقی شہریوں بلکہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے افریقی نژاد مہاجرین سے معافی مانگے جانے پر بھی زور دیتی ہے"۔

اس موقع پر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ "ڈیموکریٹس DACA پروگرام کے حوالے سے کسی اتفاق رائے تک پہنچنا نہیں چاہتے ہیں جو بچپن کی عمر میں امریکا آنے والے مہاجرین کے تحفظ کو وسیع بناتا ہے۔ یہ لوگ پروگرام کے بارے میں بات کرتے ہیں تاہم DACA سے متعلق افراد کی مدد نہیں کر رہے ہیں۔ وہ سرحد کی سکیورٹی کو یقینی بنانا نہیں چاہتے۔ یہ لوگ منشیات کا راستہ نہیں روکنا چاہتے۔ یہ لوگ فوج کے لیے مالی رقوم کی کٹوتی چاہتے ہیں جو ہم ہر گز نہیں کریں گے"۔