.

یہ بھارت ہے: صحافی کی لاش کچرے کی گاڑی میں اسپتال پہنچائی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی ریاست کرناٹک میں پولیس کو کوئی اور گاڑی نہیں ملی ہے اور اس نے حادثے میں آنجہانی ہونے والے ایک صحافی کی لاش کچرے کی گاڑی میں لاد کر اسپتال پہنچائی ہے جس پر متوفی کے خاندان ، صحافی برادری اور عام شہریوں نے اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق 28 سالہ رپورٹر مونیش پوتھا راج ہفتے کی شب اپنا آخری تفویض کار مکمل کرنے کے بعد ضلع ہاویری میں اپنے گھر جارہے تھے،ان کی موٹر بائیک اس دوران ایک درخت سے جا ٹکرائی جس کے بعد وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔وہ ایک مقامی ٹی وی چینل کے لیے رپورٹر کے طور پر کام کررہے تھے۔

ان کی موت کی اطلا ع پاکر پولیس موقع پر پہنچی اور اس نے کچرا اٹھانے والی ایک گاڑی میں ان کی لاش مقامی اسپتال میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔اس ضلع کے پولیس افسر کا کہنا ہے کہ بالعموم ہم لاشیں اسپتال لے جانے کے لیے مقامی حکام سے گاڑیاں حاصل کرتے ہیں لیکن اس مرتبہ ہمیں کوئی گاڑی نہیں مل سکی تھی۔

ریاست کرناٹک کی ورکنگ جرنلسٹس یونین کے ضلع ہاویری یونٹ کے صدر ننگاپا چواڈی نے پولیس کے اس رویےپر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ پولیس کا یہ غیر انسانی فعل ہے۔ اس کا یہ فرض تھا کہ وہ محکمہ صحت یا ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کرکے ایک ایمبولینس یا لاش لے جانے والی گاڑی کا بندوبست کرتی لیکن انھوں نے ایک کچرا گاڑی کو لاش کو اسپتال لے جانے کے لیے استعمال کیا ہے‘‘۔

تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے لاش لے جانے کے لیے ایک پرائیویٹ گاڑی بھی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ضلع میں ایک مقامی میلے کے رش کی وجہ سے اس کو کوئی گاڑی نہیں ملی تھی۔

مونیش پوتھا راج کی لاش ٹریکٹر کے ساتھ کچرا گاڑی پر اسپتال میں منتقل کرنے کی ویڈیو کی سوشل میڈیا کے ذریعے خوب تشہیر ہوئی ہے اور اس کو دیکھنے والوں نے پولیس کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ آنجہانی رپورٹر کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا اور اس کے والدین محنت مزدوری کرتے ہیں۔ وہ خود بھی اپنی تعلیم کے دوران میں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے قُلی کے طور پر کام کرتا رہا تھا۔