.

بنگلہ دیش اور میانمار میں دو سال میں روہنگیا مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے سمجھوتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میانمار اور بنگلہ دیش کے درمیان لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کی مہاجر کیمپوں سے وطن واپسی کے لیے سمجھوتا طے پا گیا ہے۔

دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان روہنگیا مسلمانوں کی واپسی کے لیے میانمار کے دارالحکومت نے پائیڈا میں مذاکرات ہوئے ہیں۔بنگلہ دیشی حکومت نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ’’ سمجھوتے کے تحت روہنگیا مسلمانوں کی میانمار میں واپسی شروع ہونے کے بعد تمام عمل دوسال میں مکمل ہوگا ‘‘۔

اس سمجھوتے کا اطلاق اکتوبر 2016ء میں میانمار کی ریاست راکھین ( اراکان) میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف برمی سکیورٹی فورسز اور بدھ مت انتہا پسندوں کی تشدد آمیز کارروائیوں کے بعد دو مراحل میں بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد پر ہوگا۔اس کا اطلاق ان روہنگیا مہاجرین پر نہیں ہوگا جو اس تاریخ سے قبل بنگلہ دیش میں رہ رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق ان روہنگیا مہا جرین کی تعداد دو لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

میانمار میں بنگلہ دیشی سفیر محمد صفی الرحمان نے بتایا ہے کہ ’’ ہم نے دوروزہ اجلاس کے دوران میں ایک فارم پر اتفاق کیا ہے۔روہنگیا مہاجرین کو میانمار اپنے آبائی علاقوں کو واپسی کے لیے اس فارم کو پُر کرنا ہوگا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ہم آیندہ دنوں میں روہنگیا کی واپسی کا عمل شروع کرسکیں گے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ میانمار کی جانب سے اعلان کردہ ڈیڈ لائن کے مطابق آیندہ ہفتے سے روہنگیا کی واپسی کا آغاز ممکن نہیں ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان اس سے پہلے نومبر میں 23 جنوری سے روہنگیا کی واپسی کے لیے سمجھوتا طے پایا تھا لیکن سرحد پار سے مہاجرین کی نقل وحمل میں درپیش چیلنجز کی وجہ سے اس ڈیڈ لائن تک آپریشن شروع نہیں ہوسکے گا۔واضح رہے کہ میانمار کی حکومت کو اس کی فوج کے وحشیانہ کریک ڈاؤن کے نتیجے میں مہاجرت کی زندگی اختیار کرنے پر مجبور ہونے والے لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کی واپسی کے لیے سخت عالمی دباؤ کا سامنا ہے۔

بنگلہ دیش میں مہاجر کیمپوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ تعداد میں روہنگیا مسلمانوں رہ رہے ہیں لیکن اس طرح کسمپرسی کی حالت میں رہنے کے باوجود بہت سے مہاجرین میانمار میں اپنی آبائی ریاست راکھین کی جانب لوٹنے کو تیار نہیں کیونکہ انھیں یہ خدشہ لاحق ہے کہ واپسی کی صورت میں انھیں ایک مرتبہ پھر برمی سکیورٹی فورسز اور بدھ مت انتہا پسندوں کے مظالم اور تشدد آمیز کارروائیوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔ان میں سے بیشتر کے گھر بار جل چکے ہیں یا منہدم کردئے گئے ہیں،بلوائیوں نے ان کی املاک لوٹ لی تھیں اور ان کے کاروبار تباہ کردیے تھے۔

میانمار کے سرکار ی میڈیا کی اطلاع کے مطابق حکومت نے راکھین کے ضلع مونگڈا میں ایک عارضی کیمپ قائم کیا ہے۔اس کیمپ میں 625 عمارتیں تعمیر کی جارہی ہیں اور وہاں قریباً تیس ہزار افراد کو ٹھہرایا جائے گا۔اس کے بعد انھیں مستقل ان کے آبائی علاقوں میں آباد کیا جائے گا۔ تاہم میڈیا کا کہنا ہے کہ ان میں سے ابھی تک بہت تھوڑی تعداد میں عمارتیں مکمل ہوئی ہیں ۔