.

بھارت : نامعلوم عورت ہسپتال سے نومولود بچّے کو لے اُڑی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی ریاست مہاراشٹر کے قصبے Bhadvad کی رہنے والی 19 سالہ خاتون موہنی اور اس کا شوہر اپنے نومولود بچّے سے محروم ہو گئے۔ مقامی اخبار Dainik Bhaskar کے مطابق موہنی نے سرکاری ہسپتال Thane Civil میں ایک بچّے کو جنم دیا۔ اس کے صرف پانچ گھنٹے بعد رات کو ایک بجے ایک نامعلوم عورت نے موہنی کے بستر پر آ کر اُس کے کان میں سرگوشی کی کہ موہنی کی ساس کمرہ انتظار میں ہے اور وہ بچّے کو دیکھنی کی خواہش مند ہے۔ اس طرح وہ عورت بچے کو لے کر چلی گئی۔ تقریبا 3 گھنٹے بعد موہنی سو کر اُٹھی تو معلوم ہوا کہ اس کا بچہ چوری ہو چکا تھا۔ ہسپتال انتظامیہ نے موہنی سے کہا کہ وہ اس سلسلے میں پولیس کی مدد لے۔

اگلی صبح موہنی اپنے شوہر اور دیگر عزیز و اقارب کے ساتھ قریبی پولیس اسٹیشن گئی اور ہسپتال کی دو سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس کو فراہم کر دیں۔ وڈیو میں نامعلوم عورت چلتے ہوئے موہنی کے بستر کے قریب آئی اور جھک کر کچھ سرگوشی کرنے کے ساتھ ہی بچّے کو اٹھا کر تیزی سے ہسپتال سے نکل گئی۔ یہ پوری کارروائی صرف 10 سیکنڈ میں ہو گئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ماہرین دونوں وڈیوز کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تا کہ بچہ چوری کرنے والی عورت کے خدوخال کا اندازہ کیا جا سکے۔

بھارت دنیا بھر میں نومولود اور کم سِن بچوں کی چوری کے واقعات میں سرِفہرست ممالک میں ہے۔ یہاں ہر 6 منٹوں میں ایک بچّے کے لاپتہ ہونے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اس طرح سال بھر میں لاپتہ ہونے والے بچوں کی مجموعی تعداد 1 لاکھ 5 ہزار کے قریب ہے۔ نومولود بچوں کو فروخت کر دیا جاتا ہے جب کہ کم سن بچوں کو کارخانوں اور کھیتوں میں کام کرنے یا بھیک مانگنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور یا پھر انسانی اسمگلنگ کے سلسلے میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔