.

شام میں داعش کی باقیات سے ایران القاعدہ کو کیسے منظم کررہا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغربی ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران ’داعش‘ کا خلا پُر کرنے اور شام میں اس کے منتشر عناصر کو القاعدہ کی شکل میں منظم کرنے کے لیے کام کررہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق القاعدہ کی لیڈر شپ کے ساتھ اپنے تاریخی اور تزویراتی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ایران شام میں القاعدہ کی تنظیم نو میں جنگجوؤں کی بھرپور مدد کررہا ہے۔

اخبار ’سنڈے ٹائمز‘ میں اڈرین لیوی اور کاتھی سکاٹ کلارک کی جانب سے تیار کردہ ایک رپورٹ شائع کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ القاعدہ شام میں خود کو ایران کی مدد سے منظم کررہی ہے۔ تنظیم نے خود کو اس مقام تک منظم اور تیار کرلیا ہے کہ وہ دسیوں ہزار جنگجوؤں کو واپس بلاسکتی ہے۔

عالمی عسکری اتحاد کی کوششوں سے شام اور عراق میں داعش بدترین شکست اور تباہی سے دوچار ہے۔ داعش کے جنگجو منتشر ہوچکے ہیں اور انہیں کوئی منظم فورم میسرنہیں رہا ہے۔ دوسری جانب ایران کے القاعدہ کی قیادت کے ساتھ تعلقات داعش منتشر جنگجوؤں کوفیلق القدس اور حزب اللہ ملیشیا کی طرز پر ’نئی القاعدہ‘ میں ضم کرنےکی کوشش کی جا رہی ہے۔

عالمی فوجی اتحاد کو خدشہ ہے کہ ابوبکر البغدادی کی تنظیم داعش کے جنگجوؤں کے ایران سے ساز باز خطرناک ہوسکتے ہیں۔ ایران القاعدہ کو شام میں منظم کرنے کے لیے داعش کے جنگجوؤں کو استعمال کرسکتا ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ القاعدہ اور ایران کے باہمی تاریخی اور تزویراتی تعلقات بھی ہیں جو افغانستان میں القاعدہ کی شکست کے دور سے چلے آ رہےہیں۔

امریکی تجزیہ نگاروں اڈرین لیوی اور کاتھی کلارک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی القدس ملیشیا کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی نے اسامہ بن لادن کے خاندان کے ایران میں قیام کے دوران القاعدہ کی قیادت کے ساتھ روابط کو مزید مضبوط بنایا۔ جنرل سلیمانی نے تہران میں پاسداران انقلاب کے ایک فوجی اڈے کے قلب میں القاعدہ کے جنگجوؤں اور بن لادن خاندان کے افراد کےلیے ایک رہائشی کمپاؤںڈ بنایا گیا۔

ایران اور القاعدہ کے درمیان تعلق جنبانی ایک ایسے وقت میں مضبوط ہو رہا ہے جب دوسری طرف ایران خطے میں اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو آگے بڑھا رہا ہے۔ حال ہی میں ایران میں ہونے والا احتجاج بھی ایران کی خطے میں بڑھتی فوجی سرگرمیوں اور اس پر اٹھنے والے بے پناہ اخراجات کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایرانی حکومت ولایت فقیہ کے نظام کو دوسرے ملکوں میں پھیلانے کے لیے تو پانی کی طرح پیسہ بہا رہی ہے مگرایرانی قوم غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔

القاعدہ کے لیے ایران کی مدد اور فنڈنگ

بہ ظاہر ایران اور القاعدہ کے فکری اور نظریاتی اختلافات کی بات کی جاتی ہے مگر اندر سےدونوں ایک دوسرے کے کافی حد تک ہم خیال رہےہیں۔ یہی ہم خیال ایران کو القاعدہ کی مالی مدد پر مجبور کرتی ہے۔ القاعدہ کی مالی امداد میں ایران نے بڑھ چڑھ کر کردار ادا کیا۔ جب امریکا میں نائن الیون کا واقعہ رونما ہوا اس وقت ایران کی جانب سے القاعدہ کے 400 اہم جنگجوؤں کو مالی مدد فراہم کرنے کی فہرست جاری کی گئی تھی۔ امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق 2001ء میں افغانستان میں القاعدہ کو منتشر کردیا گیا تھا مگر سنہ 2013ء میں یہ گروپ داعش کی شکل میں منظم ہو کر سامنے آیا۔

نظریاتی تعلق

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران میں ولایت فقیہ کا شیعہ مسلک کا سیاسی نظام رائج ہے مگر اس شدت پسند نظام کے القاعدہ جیسی سُنی عسکری تنظیموں، اور سیاسی اور عسکری میدان میں کام کرنے والی حماس اور اسلامی جہاد جیسی تنظیموں کے ساتھ بھی گہرے مراسم ہیں۔ اسی طرح ایرانی رجیم اور اخوان المسلمون بھی ایک دوسرے کے لیے قابل قبول ہیں۔

ایران اور اخوان المسلمون کےدرمیان تعلقات عارضی یا حالات کی ضرورت نہیں بلکہ خمینی نظام اخوان کے سید قطب کے افکار سے متاثر ہے۔ ایرانی رجیم، لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اور عراق وشام سمیت دوسرے ملکوں کے شیعہ عناصر نے ’‘الجھاد‘ کی اصطلاح اخوان ہی سے لی۔ اس کے علاوہ اخوان اور ولایت فقیہ کے سیاسی مفادات میں بھی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل سنت مسلک کی شدت پسند تنظیموں کے کسی نا کسی شکل میں ایران کے ساتھ تعلقات قائم رہے ہیں۔ یہ تعلقات دراصل دونوں کے درمیان پائی جانے والی نظریاتی قربت کا ثبوت ہیں۔

بن لادن کی دستاویزات

ایبٹ آباد میں واقع بن لادن کے مبینہ ٹھکانے سے امریکی حکام کو حاصل ہونے والی دستاویزات میں بھی ایران اور القاعدہ کے درمیان تعلقات کا پتا چلتا ہے۔

یہ دستاویزات امریکی فوج نے 2011ء میں ایک آپریشن کے دوران بن لادن کو ہلاک کرنے کے بعد اس کے خفیہ ٹھکانے سے قبضے میں لی تھیں اور انہیں حال ہی میں ’سی آئی اے‘ کی جانب سے قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

سی آئی اے کوبن لادن کے ٹھکانے سے 4 لاکھ 70 ہزار دستاویزات ملی تھیں۔ ان میں سے 19 صفحات ایران اور القاعدہ کے درمیان تعلقات پر مشتمل ہیں۔

ان دستاویزات میں القاعدہ کے ایک سینیر رہ نما کا مکتوب شامل ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ ایران القاعدہ کی اسلحہ سمیت ہرطرح کی ضرورت پوری کرنے کے لیے تیار ہے۔ تہران کی جانب سے القاعدہ کو عسکری تربیت دینے کی بھی پیش کش کی گئی ہے۔ القاعدہ جنگجوؤں کو اسلحہ چلانے کا طریقہ لبنان میں حزب اللہ کے تربیتی مراکز میں سکھایا جائے گا۔ اس خدمت کے بدلے میں القاعدہ خطے میں امریکی تنصیبات پر حملے کرے گی۔

دستاویزات سےپتا چلتا ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس حکام القاعدہ کے جنگجوؤں کو دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے ایران کے پاسپورٹس بھی جاری کرتے رہےہیں۔

ایک دوسرے دستاویزی ثبوت میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس نے القاعدہ کے ایجنٹوں کو سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے پاسپورٹس جاری کیے۔ بعض القاعدہ ارکان کو اپنے ہاں پناہ دی۔ ایران اور القاعدہ کمانڈر ابو حفص الموریتانی کے درمیان نائن الیون کے واقعے سے قبل بھی دو طرفہ تعلقات کے لیے مذاکرات ہوتے رہے ہیں۔

ایران کو ہرجانہ

گذشتہ برس امریکی شہر نیویارک کی ایک عدالت نے نائن الیون کےواقعے میں سہولت کار کے طور پر ملوث ہونے کی پاداش میں ایران کو 10 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔اس کے علاوہ بھی ایران پر القاعدہ کی مدد کے الزام میں 21 کروڑ ڈالر ہرجانے کا حکم دیا گیا۔یہ رقم پاسداران انقلاب کی جانب سے سعودی عرب، لبنان اور کویت میں کیے گئے حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو ادا کرنے کو کہا گیا۔

لکسمبرگ کی ایک یورپی عدالت نے بھی ایران کے مرکزی بنک کے 6 کروڑ ڈالر اثاثے نائن الیون کے متاثرین کے لیے روک لیے تھے۔