.

لیبیا : جھڑپوں میں 20 افراد ہلاک ، فوجی ہوائی اڈا پروازوں کے لیے بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں ایک فوجی ہوائی اڈے پر شدید جھڑپوں میں بیس افراد ہلاک اور ساٹھ سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں جس کے بعد ہوائی اڈے کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے جھڑپوں میں مرنے والوں اور زخمیوں میں عام شہری شامل ہیں۔لیبیا کی قومی اتحاد کی حکومت ( جی این اے)کے مطابق ایک نامعلوم ملیشیا نے سوموار کی صبح معیتیقہ کے ہوائی اڈے میں قائم ایک جیل سے اپنے ساتھیوں کو چھڑانے کے لیے حملہ کیا تھا اور اس کی بعد ان کی وہاں سکیورٹی فروسز کے ساتھ لڑائی چھڑ گئی تھی۔شہر کے وسط سے ہوائی اڈے سے خود کار ہتھیار وں اور توپ خانے کے گولوں کے پھٹنے کی آوازیں سنی جاسکتی تھیں۔

ان جھڑپوں کے بعد معیتیقہ کے ہوائی اڈے تاحکم ثانی پروازوں کے لیے بند کردیا گیا ہے۔حکام کے مطابق لڑائی کے دوران بعض طیاروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ لیبیا کی قومی فضائی کمپنی افریقیہ ائیر ویز کی ایک ائیربس اے 319 کی چھت میں گولہ لگنے سے سوراخ ہوگیا ہے۔اس کے علاوہ چار اور طیاروں کو بھی فائرنگ سے نقصان پہنچا ہے۔

معیتیقہ کے ہوائی اڈے پر قومی اتحاد کی حکومت کے تحت خصوصی انسداد دہشت گردی فورس ( ردا) کا کنٹرول ہے ۔اس سے متصل جیل پر بھی اس کا کنٹرول ہے اور حملہ آور مسلح ملیشیا نے اپنے جنگجوؤں کو وہاں سے رہا کرانے کے لیے ہوائی اڈے پر اچانک دھاوا بولا تھا۔

ردا کا کہنا ہے کہ ایک ملیشیا لیڈر بشیر المعروف گائے کے وفادار مسلح افراد نے ہوائی اڈے پر حملہ کیا تھا۔قومی اتحاد کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس حملے سے ہوائی اڈے پر موجود مسافروں کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہوگئی تھیں، شہری ہوا بازی متاثر ہوئی ہے اور شہریوں کو دہشت زدہ کیا گیا ہے۔

اس نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ اس حملے کا مقصد داعش ، القاعدہ اور دوسری جنگجوتنظیموں سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کو جیل سے رہا کرانا تھا لیکن ان کے حملے کو پسپا کردیا گیا ہے اور اب اس علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے کارروائی جاری ہے۔

معیتیقہ ایک فوجی ہوائی اڈا ہے اور یہ طرابلس کے وسطی حصے کے نزیک واقع ہے۔دارالحکومت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو 2014 ء میں متحارب جنگجو گروپوں کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں شدید نقصان پہنچا تھا جس کے بعد اس کو بند کردیا گیا تھا اور پھر معیتیقہ کے فوجی اڈے ہی کو شہری پروازوں کے لیے استعمال کیا جانے لگا تھا۔ اس سے متصل جیل میں ردا کے مطابق قریباً ڈھائی ہزار مشتبہ افراد قید ہیں اور ان میں داعش کے مشتبہ جنگجو بھی شامل ہے۔