.

کیا ایرانی تیل بردار جہاز امریکا نےغرق کیا؟

جہاز تیل لے کرشمالی کوریا کی جانب عام سفر تھا:ارکان پارلیمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اتوار کے روز چین کے علاقائی سمندری حدود میں ایران کا ایک تیل بردار بحری جہاز سمندر میں ڈوب کر تباہ ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی آئل بردار جہاز کو آٹھ دن تک سمندر میں آگ لگی رہی۔ اس پر عملے کے 32 افراد سوار تھے اور وہ سب اس حادثے میں لقمہ اجل بن گئے۔

ایران کے سرکاری موقف کے مطابق ایرانی آئل بردار جہاز’سانچی‘ میں آگ اس وقت بھڑک اٹھی جب وہ ایک چینی کشی سے ٹکراگیا۔ ایران کے سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے پورٹس اینڈ سیلنگ آرگنائزیشن کے چیئرمین محمد راستاد نے بتایا کہ’ہمیں چینی سمندر میں غرق ہونے والے جہاز کے عملے کے زندہ بچ جانے کی کوئی امید نہیں۔ عملے کے 32 میں سے دو بنگلہ دیش اور باقی سب ایرانی تھے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ بحری جہاز میں زور دار دھماکوں سے لگنے والی وآگ اور زہریلی گیس کے اخراج سے تمام عملہ لقمہ اجل بن گیا۔

مشرقی چین میں سمندر میں ڈوبنے والے ایرانی تیل بردار جہاز کے حادثے کی خبر آنے کے کچھ ہی دیر بعد بعض ایرانی ذرائع ابلاغ نے یہ خبر بھی دی کہ ممکنہ طورپر اس جہاز کو امریکیوں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ عصر ایران اور ’تابناک’ ویب سائیٹوں کے مطابق سانچی کو چینی سمندر میں امریکا کی جانب سے کارروائی کا نشانہ بنایا گیا ہوگا۔

تابناک ویب سائیٹ کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے بعض ارکان بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جہاز کو امریکا نے ایک سازش کے تحت حادثے سے دوچار کیا ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق تیل بردار جہاز کا جنوبی کوریا کی طرف سفر کا تاثر غلط ہے۔ جہاز تیل کی بھاری مقدار لے کر شمالی کوریا جا رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا نے اسے ایک سازش کے تحت سمندر میں ڈبو دیا۔

تاہم ایرانی پارلیمنٹ کے بعض ارکان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جہاز کے حادثے میں امریکا کے ملوث ہونے کا دعویٰ درست نہیں کیونکہ جہاز میں آگ اس وقت لگی تھی جب وہ چین کے’سی ایف کریسٹل‘ نامی جہاز سے ٹکرا گیا۔ چین کے اس جہاز پر پاناما کا پرچم لہرا رہا تھا۔

ایرانی عہدیداروں کی طرف سے یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ امریکا نے تیل بردار ایرانی جہاز کو میزائل سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اس میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

بعض ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ایران میں یہ بحث کہ جہاز کو امریکا نے تباہ کیا ہے کوئی انوکھی نہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری محاذ آرائی اور شمالی کوریا کو ایرانی تیل کی فروخت پر امریکی اعتراضات کے جلو میں اس حادثے کا امریکا پر الزام عاید کرنا قابل فہم ہے۔ تاہم یہ تمام باتیں اب تک افواہیں ہیں۔

حسن روحانی کا تحقیقات کا مطالبہ

ایرانی صدر حسن روحانی نے چینی سمندری حدود میں ایرانی تیل بردار جہاز کے حادثے کی فوری تحقیقات پر زور دیا ہے۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران نے چین میں اپنے بحری جہاز کے حادثے کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔ اس لیے یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا یہ حادثہ چینی بحری جہاز سے ٹکرانے کے باعث پیش آیا۔

ایران کا سانچی نامی یہ جہازجس پر 136 ٹن سائل گیس اور قریبا 10 لاکھ بیرل تیل لادا گیا تھا۔ خبر رساں ادارے’رائٹرز‘ کے مطابق ایرانی جہاز پر لادے گئے ایندھن کی قیمت 6 کروڑ ڈالر اور جہاز کی اپنی قیمت بھی قریبا چھ کروڑ ڈالر تھی۔