.

حوثیوں کی جیلوں میں تشدد کے سبب ہلاکتوں کی تعداد 115 ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صوبے البیضاء میں حوثی ملیشیا کی جیلوں میں تشدد کے باعث ایک اور مغوی یمنی دم توڑ گیا۔ احمد علی صالح الشنی نامی اس شہری کی موت کے بعد حوثیوں کے قید خانوں میں تشدد اور اذیت رسانی کے سبب اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے والے شہریوں کی مجموعی تعداد 115 ہو گئی ہے۔

دوسری جانب ایمنیسٹی انٹرنیشنل تنظیم نے صنعاء میں حوثی ملیشیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جیلوں میں جبری حراست کا شکار تمام گرفتار شدگان کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کرے۔

یمن میں ایمنیسٹی کی ڈائریکٹر سماح حدید نے انکشاف کیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے 2016 سے اندھادھند گرفتاریوں اور جبری روپوشیوں کا آغاز کر رکھا ہے۔ ان کارروائیوں میں صحافیوں، انسانی حقوق کا دفاع کرنے والے افراد اور مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔

تنظیم نے اپنے پاس موجود معلومات کے حوالے سے بتایا کہ کم از کم 10 صحافیوں کو ڈھائی سال سے زیادہ عرصے سے بنا کسی الزام اور عدالتی کارروائی کے حراست میں رکھا گیا۔

اس کے علاوہ حوثیوں کی جانب سے بہائی اقلیت کے خلاف کریک ڈاؤن کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔ صنعاء کی ایک عدالت کی جانب سے یمن میں بہائی فرقے کی ایک اہم ترین شخصیت حامد حیدرہ کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ جاری کیا گیا۔