.

سعودی عرب :نجی فرموں کو 60 اسکول تعمیر کرنے اور چلانے کی دعوت ، ٹینڈر جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت ِتعلیم نے اصلاحات کے عمل کے تحت نجی کمپنیوں کو 60 اسکولوں کی تعمیر ، انھیں چلانے اور ان کی دیکھ بھال کرنے کی دعوت دی ہے۔اس سلسلے میں وزارت نے بدھ کو ٹینڈر جاری کردیا ہے۔

سعودی حکومت کی ملکیتی تطویر بلڈنگز کارپوریشن ( ٹی بی سی ) نے کہا ہے کہ کامیاب بولی دہندہ کو مکہ اور جدہ میں 60 اسکولوں کی عمارتوں کے ڈیزائن ، تعمیر اور ان کی دیکھ بھال کا طویل المیعاد ٹھیکا دیا جائے گا۔ان اسکولوں میں کنڈر گارٹن سے ثانوی سطح تک تعلیم دی جائے گی۔

یہ ٹینڈر سرکاری اور نجی شعبے کی شراکت داری کے ضمن میں پہلا ہوگا ۔اس کے تحت ایک پرائیویٹ فرم یا کنسورشیم کو اسکولوں کی تعمیر اور پھر انھیں چلانے کے لیے ایک مخصوص عرصے تک رقوم حکومت دے گی ۔اس کے بعد ان تعلیمی اداروں کی ملکیت ریاست کو منتقل ہوجائے گی۔

ممکنہ بولی دہندگان 7 فروری تک اپنی دلچسپی کا اظہار کرسکتے ہیں۔ٹی بی سی کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں جلد دارالحکومت الریاض میں پراپرٹی ڈویلپرز ، سرمایہ کاروں ، مالیاتی اداروں اور قانونی وفنی پیشہ ور افراد کی ایک کانفرنس بلائے گی۔

کاروباری مواقع

2016ء میں اعلان کردہ اصلاحات کے تحت سعودی عرب نجی اور سرکاری شعبے کی شراکت داری کے تحت اسکولوں، اسپتالوں اور ہوائی اڈوں سمیت اپنے بیشتر ڈھانچے کی انتظامی ذمے داریاں ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کے سپرد کررہا ہے۔اس سے اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

سعودی عرب میں سرکاری اور نجی شعبے کی شراکت داری کے اس پہلے منصوبے سے آیندہ برسوں کے دوران میں اس بات کے تعیّن میں بھی مدد ملے گی کہ یہ حکمت عملی کہاں تک کامیاب رہتی ہے یا ناکام ہے اور غیرملکی سرمایہ کار سعودی عرب میں سرمایہ کاری میں کہاں تک دلچسپی لیتے ہیں۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خاص طور پر صحت اور تعلیم کے شعبوں میں کام کے لیے کمپنیوں کی ملکیت کے سو فی صد حقوق دیں گے اور وزارتیں خدمات مہیا کرنے کے بجائے صرف ریگو لیٹر کا کردار ادا کریں گی۔