.

قتل یا خود کشی ؟ تھائی خاندان میں قطر ائیر ویز کی ملازمہ کی اچانک موت پر تنازع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر ائیر ویز کی تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک فلائٹ اٹنڈنٹ کی دسمبر میں پراسرار حالات میں موت کے سبب پر اس کے خاندان میں ایک تنازع پیدا ہوگیا ہے۔اس کی بڑی بہن کا کہنا ہے کہ اس نے خودکشی کی تھی جبکہ اس کے والد کا کہنا ہے کہ اس کو گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق 26 سالہ پریمروتھائی جوسینگ قطر کی قومی فضائی کمپنی میں فلائٹ اٹنڈنٹ کے طور پر کام کررہی تھی۔دسمبر کے آخر میں وہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اس فضائی کمپنی کی ایک ڈارمینٹری (کمرے) میں مردہ حالت میں پائی گئی تھی۔اس کی موت کے سرٹیفکیٹ میں آکسیجن کی کمی کو موت کا سبب قرار دیا گیا ہے ،یعنی وہ دم گھٹنے سے موت کے مُنھ میں چلی گئی تھی۔

جرمن دارالحکومت برلن میں مقیم اس کی بڑی بہن پرامرودی ٹائیڈ کا کہنا ہے کہ اس کی بہن ڈیپریشن کا شکار تھی۔اس نے اپنے فیس بُک صفحے پر لکھا ہے کہ وہ اس معاملے کو ذاتی رکھنا چاہتی ہیں کیونکہ وہ اپنی والدہ کے احساسات وجذبات کو کسی طرح ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتی ہیں۔

موت کی تحقیقات

تاہم اس کے 74 سالہ والد ہائیبو کوہ نے موت کے اس سبب سے اتفاق نہیں کیا اور انھوں نے بنکاک میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری بیٹی کو قطر میں اس کے کمرے میں پھندا دے کرقتل کیا گیا تھا۔انھوں نے تھائی لینڈ کی وزارت خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کی بیٹی کی موت کا سبب جاننے کے لیے تحقیقات میں مدد دے۔

ہائیبو کا کہنا ہے کہ ان کی اپنی بیٹی سے روزانہ ہی لائن میسج کے ذریعے بات ہوتی رہتی تھی اور بظاہر وہ خوش نظر آرہی تھی۔وہ خاص طور پر فلائٹ اٹنڈنٹ کی ملازمت ملنے پر بہت خوش تھی کیونکہ وہ ایک عرصے سے فضائی میزبانی کا پیشہ اختیار کرنےکے خواب دیکھ رہی تھی۔

مگر متوفیہ کی بہن کا کہنا ہے کہ ’’اس نے مرنے سے ایک روز قبل مجھے وٹس ایپ پر ایک پیغام بھیجا تھا اور لکھا تھا:’’ بہن نائس میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں اور ماما سے بھی ‘‘۔

لیکن اس کے باوجود اس کے والد کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات کا یقین نہیں ہے کہ ان کی بیٹی خود کشی بھی کرسکتی ہے ۔انھوں نے تھائی وزارت خارجہ کے قونصل جنرل کو ایک درخواست دی ہے جس میں یہ کہا ہے کہ وہ ان کی بیٹی کی موت کی تحقیقات میں ان کی مدد کریں ۔

پرامرودی ٹائیڈ نے اپنے فیس بُک صفحے پر یہ بھی لکھا ہے کہ ان کے والد اور والدہ گذشتہ کئی سال سے تھائی لینڈ میں الگ الگ رہ رہے ہیں اور وہ اپنی والدہ کے ساتھ ہوتی ہیں۔انھیں دوحہ میں تھائی سفارت خانے نے ان کی بہن کی موت کی اطلاع دی تھی ۔اس کے بعد وہ والدہ کے ساتھ دوحہ پہنچی تھی تاکہ اس کی میت کو آخری رسومات کے لیے تھائی لینڈ واپس لے جایا جاسکے۔