.

یو اے ای کی اقوام متحدہ میں قطر کے خلاف مسافر پروازوں کو روکنے پر دو شکایات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر اور جنرل اسمبلی کے صدر کو قطر کے خلاف مسافر طیاروں کو پرواز کے دوران روکنے اور انسانی جانوں کو خطرے سے دوچار کرنے پر دو درخواستیں پیش کی ہیں۔

یو اے ای نے یہ دونوں نوٹ اقوام متحدہ کے منشور کے تحت پیش کیے ہیں اور ان میں کہا ہے کہ قطر نے امارات کے دو طیاروں کو بحرین کے لیے پروازوں کے دوران روکنے کی کوشش کی تھی۔یہ دونوں طیارے بین الاقوامی قوانین اور قواعد و ضوابط کی پاس داری کرتے ہوئے حاصل کردہ اجازت ناموں کے تحت پروازیں کررہے تھے۔

امارات کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق :’’ ان نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یو اے ای ریاست قطر کے اس کردار کو غیر ذمے دارانہ قرار دیتا ہے۔یہ ایک بلا جواز اشتعال انگیزی ہے اور شہری پروازوں کے لیے خطرے کا موجب ہے ۔اس کا یہ کردار بین الاقوامی قانون کے قواعد وضوابط کے بھی منافی ہے۔اس سے خطے میں بین الاقوامی امن اور سلامتی بھی خطرے سے دوچار ہوگئی ہے‘‘۔

یو اے ای نے یہ درخواست کی ہے کہ اس کی اس دستاویز کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی سرکاری دستاویزات میں اندراج کر لیا جائے۔

متحدہ عرب امارات نے اسی مضمون پر مبنی دو یاد داشتیں عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل اور خلیج تعاون کونسل( جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل کو بھی بھیجی ہیں اور ان سے یہ درخواست کی ہے کہ یہ دستاویزات دونوں تنظیموں کے رکن ممالک میں سرکاری طور پر تقسیم کردی جائیں۔

واضح رہے کہ بحرین کی جانب سے جاری کردہ فوٹیج کے مطابق قطری لڑاکا جیٹ نے سوموار کے روز متحدہ عرب امارات سے آنے والی دو پروازوں کو روکنے کی کوشش کی تھی۔ان میں پہلے واقعے میں ابو ظبی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے بحرین کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی جانب جانے والی الامارات ائیر لائنز کی پرواز ای کے 837 کو روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔دوسرے واقعے میں اتحاد ائیر لائنز کی پرواز ای وائی 23 بی کو قطری لڑاکا جیٹ نے روکا تھا۔