.

افغان دارالحکومت کابل میں ہوٹل پر مسلح افراد کا حملہ ،متعدد ہلاک و زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں چار مسلح افراد نے ہفتے کی شب انٹر کانٹی نینٹل پر حملہ کیا ہے اور اس کے بعد حملہ آوروں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔

افغان حکام نے اس حملے کے حوالے سے مختلف اطلاعات دی ہیں۔ ہوٹل کے مینجر کے مطابق مسلح حملہ آور باورچی خانے کے راستے سے عمارت میں داخل ہوئے تھے اور انھوں نے ہوٹل میں موجود بعض افراد اور عملہ کے ارکان کو یرغمال بنا لیا۔اس دوران میں بہت سے افراد جانیں بچا کر بھاگ جانے میں کامیاب ہوگئے۔

افغان وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نصرت رحیمی کا کہنا ہے کہ حملے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن وہ فوری طور پر ان کی حتمی تعداد نہیں بتا سکتے۔ان کے بہ قول سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں دو حملہ آور مارے گئے ہیں اور چھے افراد زخمی ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے رات گئے ہوٹل کی پہلی منزل کو کلیئر کرلیا تھا اور دوسری منزل میں کارروائی جاری تھی۔

افغانستان کی خفیہ ایجنسی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی کے ایک اہلکار نے قبل ازیں اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’’ ہوٹل کی عمارت کے اندر چار حملہ آور موجود ہیں اور وہ وہاں موجود مہمانوں پر فائرنگ کررہے ہیں‘‘۔

اس اہلکار کے مطابق حملے کے بعد اس ہوٹل کی چوتھی منزل میں آگ لگ گئی ہے اور ہوٹل میں موجود لوگ دوسری منزل میں اپنے کمروں میں چھپنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ہوٹل میں موجود ایک مہمان نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ’’ مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ حملہ آور ہوٹل کے اندر موجود ہیں لیکن میں فائرنگ کی آوازیں سن سکتا ہوں اور یہ پہلی منزل سے سنائی دے رہی ہیں۔ہم اپنے کمروں میں چھپے ہوئے ہیں۔ میں سکیورٹی فورسز سے التجا کرتا ہوں کہ وہ جلد سے جلد ہمیں بچانے کے لیے ہوٹل پہنچیں قبل اس سے کہ حملہ آور ہمیں مارنے کے لیے پہنچ جائیں‘‘۔

فوری طور پر کسی گروپ نے ہوٹل پر اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔یاد رہے کہ جون 2011 ء میں انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل پر ایک خودکش بم حملے میں 10 شہریوں سمیت 21 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔