.

امریکا نکلا تو ایران کا جوہری سمجھوتہ ختم ہوجائے گا:لافروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیرخارجہ سیرگئی لافروف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکا ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سے باہرنکلتا ہے تو اس کے بعد اس معاہدےکو جاری رکھنا مشکل ہوجائے گا۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنہ 2015ء کے دوران ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پائے سمجھوتے کے ’نقائص‘ دور کرنے کے لیے 120 دن کا وقت دیا تھا۔

روسی وزیرخارجہ لافروف نے امریکی دورے کے دوران نیویارک میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر طے پایا معاہدہ اہم ہے اور امریکا اس معاہدے کا اہم رکن ہے۔ اگر امریکا اس سمجھوتے سے باہر آتا ہے تو اس کے بعد اسے برقرار رکھنے کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

ایک دوسرے بیان میں روسی وزیرخارجہ نے کہا کہ انہوں نے فلسطینی صدر محمود عباس اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان ماسکو میں غیر مشروط ملاقات کی تجویز پیش کی تھی۔

لافروف نے امریکا کی جانب سے فلسطینی پناہ گزینوں کی مالی امداد کم کرنے کے اعلان پر تنقید کی اور کہا کہ ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی’اونروا‘ کی امداد کم کرنے سے پناہ گزینوں کی مسائل میں خطرناک اضافہ ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل امریکی حکومت نے فلسطینی پناہ گزینوں کے ذمہ دار ادارے’اونروا‘ کی65 ملین ڈالر کی سالانہ امداد بند کردی تھی۔ اس کے علاوہ امریکا نے اونروا کو دی جانے والی خوراک کی مد میں 45 ملین ڈالر کی امداد بھی بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

روسی وزیرخارجہ نے شمالی شام میں امریکا کی زیرنگرانی ایک نئی فورس تشکیل دینے کی تجویز کی ڈٹ کر مخالفت کی اور کہا کہ متبادل اتھارٹی یا فورسز کا قیام شام کی وحدت کے حوالے سے طے پائے معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔