.

امریکی جج 9/11 سے متعلق سعودی عرب مخالف دعووں سے بدستور غیر مطمئن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے ایک ضلعی جج نے ایک مرتبہ پھر سعودی عرب کے نائن الیون حملوں میں کسی بھی طرح ہاتھ کارفرما ہونے سے متعلق دعووں کے بارے میں اپنے شکوک کا اظہار کیا ہے۔ یہ جج ماضی میں بھی سعودی عرب سے متعلق ایسے دعووں اور دلائل کو مسترد کرچکے ہیں۔

نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں امریکی ڈسٹرکٹ جج جارج بی ڈینیلز نے جمعرات کو نائن الیون سے متعلق مقدمے کی پورا دن سماعت کی ہے اور ان حملوں میں ہلاک شدگان کے خاندانوں ، زندہ بچ جانے والے افراد اور سعودی عرب کے وکلاء سے پوچھ تاچھ کی ہے۔انھوں نے فوری طور پر کوئی حکم جاری نہیں کیا ہے اور ان کے تحریری فیصلے میں کئی ہفتے یا مہینے بھی لگ سکتے ہیں۔

امریکی عدالت میں دلائل کا یہ نیا سلسلہ کانگریس کے 2016ء میں منظور کردہ انصاف برخلاف اسپانسرز آف ٹیررازم ایکٹ کے بارے میں ایک کیس کی سماعت کے دوران میں شروع ہوا ہے۔اس ایکٹ کو اس وقت کے صدر براک اوباما نے ویٹو کردیا تھا۔ اس کے تحت نائن الیون کے متاثرہ افراد کو سعودی عرب کے خلاف بھی عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی کا حق دیا گیا تھا۔

جج ڈینیلز نے عدالت میں ایک وکیل کے پیش کردہ دعووں کو چیلنج کیا ہے ۔اس وکیل نے درخواست گزاروں کی جانب سے پندرہ سال پرانے مقدمے میں یہ دلائل دیے تھے کہ سعودی عرب کو بھی دہشت گردی کے حملوں کا ذمے دار قرار دیا جاسکتا ہے۔اس وکیل نے یہ مضحکہ خیز دلیل بھی پیش کی تھی کہ اگر سعودی عرب نے کبھی دہشت گردی کی حمایت نہیں کی اور وہ اس بات سے بھی آگاہ نہیں تھا کہ مشرق وسطیٰ میں اس کی جانب سے خیراتی اداروں کو دی جانے والی رقوم اسامہ بن لادن کی تنظیم القاعدہ کے ہاتھ لگ سکتی تھی،تو اس کے باوجود بھی اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جاسکتی ہے۔

اس پر جج نے وکیل سے سوال کیا کہ ’’ اگر میں آپ کو 10 ڈالرز دوں اور آپ جاؤ اور ان میں سے 5 ڈالرز کی آئس کریم خرید کر لاؤ تو کیا یہ سوال بنتا ہے کہ میں نے آپ کو 5 ڈالرز آئس کریم خرید کرنے کے لیے کیوں دیے تھے؟‘‘ انھوں نے بعد میں یہ بھی پوچھا کہ کیا القاعدہ کی دہشت گردی کی ہر کارروائی کا سعودی عرب کو ذمے دار قرار دیا جاسکتا ہے؟

واضح رہے کہ نائن الیون کمیشن نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں لکھا تھا کہ اس کو سعودی حکومت کے بہ طور ایک ادارہ یا سینیر سعودی عہدے داروں کے انفرادی طور پر القاعدہ کے حملوں کی مالی معاونت کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا۔

سعودی عرب کی پیروی کرنے والے وکیل مائیکل کیلوگ نے عدالت میں اس رپورٹ کے علاوہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف بی آئی) اور سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے ) کی نائن الیون حملوں کی تحقیقات کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان تمام میں سعودی عرب کے خلاف دہشت گردی کے حملوں میں کسی قسم کے کردار سے متعلق دعووں کو مسترد کیا جا چکا ہے۔

جج ڈینیلز 2015ء میں سعودی عرب کے خلاف اس کیس کو ابتدائی طور پر مسترد کرچکے ہیں۔انھوں نے کہا کہ درخواست گزاروں کے نئے دعووں میں کوئی نئی چیز نہیں ہے اور انھوں نے پرانے دعووں ہی کی اعادہ کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ:’’ مجھے اس بات کا یقین نہیں کہ میں اس رپورٹ کے حتمی تجزیے یا حقائق کے بارے میں کیا کرنے جارہا ہوں۔آیا یہ اس عدالت کےآزادانہ طور پر کسی نتیجے تک پہنچنے کے لیے کافی ہیں ‘‘۔