.

امریکی حکومت کا جزوی ’’شٹ ڈاؤن‘‘، ہزاروں وفاقی ملازمین ’’ فرلو‘‘

ڈیمو کریٹس سمجھوتا کرسکتے تھے لیکن انھوں نے ’’شٹ ڈاؤن‘‘ کی سیاست کھیلنے کا فیصلہ کیا :صدر ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی حکومت کا کانگریس کے ارکان میں اخراجات کے بل کی منظوری کے لیے اتفاق رائے نہ ہونے پر ہفتے کے روز شٹ ڈاؤن ہوگیا ہے۔ اس کے بیشتر کارِ سرکار جزوی طور پر معطل ہوکر رہ گئے ہیں اور صرف ضروری سرکاری امور ہی نمٹائے جارہے ہیں۔

امریکی سینیٹ کے ارکان نے جمعہ اور ہفتہ کی نصف شب تک عبوری اخراجات کے بل کی منظوری دینا تھی لیکن حکومتی جماعت ری پبلکن اور حزب اختلاف ڈیمو کریٹک پارٹی کے ارکان کے درمیان کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا تھا۔ نتیجتاً آج امریکیوں نے اس حال میں صبح کی ہے کہ ان کی حکومت کے شٹ ڈاؤن کا آغاز ہوچکا تھا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار کا ایک سال پورا ہونے کی خوشیاں دھری دھری کی رہ گئی ہیں۔

ری پبلکنز اور ڈیمو کریٹس نے ایک دوسرے کو حکومت کے غیر فعال ہونے کا ذمے دار قرار دیا ہے ۔ صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ ڈیمو کریٹس میرے اقتدار کا دوسرا سال شروع ہونے پر مجھے ایک اچھا تحفہ پیش کرنا چاہتے تھے‘‘۔انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ’’ڈیمو کریٹس بآسانی کوئی سمجھوتا کرسکتے تھے لیکن انھوں نے اس کے بجائے ’’شٹ ڈاؤن‘‘ کی سیاست کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔

امریکی سینیٹ میں ڈیمو کریٹک ارکان نے رات گئے حکومت کو مزید چار ہفتے تک چلنے دینے کے بل کی مخالفت میں ووٹ دیا تھا اور انھوں نے آخری وقت میں ری پبلکنز سے سابق صدر براک اوباما کے دور کے ایک پروگرام کے تحفظ کے لیے رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔یہ پروگرام مارچ میں ختم ہورہا ہے۔اس کے بعد بعض تارکِ وطن نوجوانوں کو امریکا سے بے دخل کیا جاسکے گا۔

100 ارکان پر مشتمل سینیٹ میں اس بل کی منظوری کے لیے 60 ووٹ درکار تھے لیکن اس کے حق میں 50 ووٹ آئے تھے اور مخالفت میں 49 ووٹ پڑے تھے ۔ حکومت کو اس بل کی منظوری کے لیے ڈیمو کریٹک پارٹی کے دس ارکان کی حمایت کی ضرورت ہے۔ سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کے اپنے ارکان کی تعداد 51 ہے۔

صدر ٹرمپ کی ناکامی

گذشتہ ربع صدی کے دوران میں یہ چوتھا موقع ہے کہ کسی امریکی حکومت کو شٹ ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اس کے تحت بعض حکومتی اداروں اور ایجنسیوں نے جزوی طور پر کام کرنا چھوڑ دیا ہے جبکہ مسلح افواج کے وردی پوش اہلکار ، محکمہ صحت کے انسپکٹرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسر کسی تن خواہ کے بغیر کام کریں گے۔

اگر دونوں جماعتوں کے درمیان سوموار تک کوئی سمجھوتا طے نہیں پاتا ہے تو ہزاروں وفاقی ملازمین ’’ فرلو‘‘ قرار پاجائیں گے۔وائٹ ہاؤس اور کیپٹول ہل صرف ضروری عملہ کے ساتھ ہی اپنے امور نمٹا سکیں گے۔نیشنل پارک اور وفاقی عجائب گھر بھی کھلے رہیں گے لیکن وہ زائرین کو محدود خدمات فراہم کرسکیں گے۔

امریکا میں کار ِسرکار اختتام ہفتہ پر بند ہوا ہے یا ہورہا ہے ،اس لیے بیشتر امریکیوں پر اس کے فوری طور پر کوئی واضح اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں لیکن اگر یہ بندش طول پکڑتی ہے تو پھر اس کے زیادہ منفی اور نقصان دہ اثرات مرتب ہوں گے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان ہوگان گڈلے نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب جب تک شٹ ڈاؤن کا خاتمہ نہیں ہوجاتا، صدر ٹرمپ کانگریس کے ساتھ تارکینِ وطن کے بارے میں پالیسی پر کوئی مذاکرات نہیں کریں گے۔

سینیٹ میں نامنظور ہونے والے اخراجات کے بل میں امریکا میں غیر قانونی طور پر رہنے والے بعض تارکین وطن کو کوئی تحفظ نہیں دیا گیا تھا جبکہ ڈیمو کریٹس نے بل کی حمایت کے لیے انھیں تحفظ دینے کی شرط رکھی تھی۔

ایوان نمائندگان میں ڈیمو کریٹ لیڈر نینسی پیلوسی کا کہنا ہے کہ حکومت کے شٹ ڈاؤن کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک ’’ ایف ‘‘ حاصل کر لیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ’’قیادت میں ناکام‘‘ ہیں اور ری پبلکنز حکومت کو کھولنے کے لیے مل بیٹھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے ہیں۔