.

شیخ عائض قرنی نے تعدّدِ ازواج اور شدت پسند مواقف سے رجوع کیوں کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے معروف عالم شیخ عائض قرنی نے تعدّدِ ازواج (ایک سے زیادہ شادی) کی دعوت دینے والے مبلغین کے مقابلے میں چونکا دینے والا موقف اپناتے ہوئے مردوں کو ایک شادی پر اکتفا کرنے کی نصیحت کی ہے۔ قرنی نے، جو خود ایک سے زیادہ بیویاں رکھتے ہیں کہا کہ "میں انسان کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ایک بیوی پر اکتفا کرے تا کہ اُس کے اور لوگوں کی بیٹیوں کے لیے دردِ سر نہ ہو"۔

قرنی کا کہنا ہے کہ "ایک سے زیادہ شادیاں کرنے والے اکثر لوگ حقوق پورے نہیں کرتے اور عورتوں کا اکرام بھی نہیں کرتے"۔

ٹی وی پر ایک گفتگو کے دوران قرنی نے باور کرایا کہ وہ مملکت سعودی عرب میں اسلامی ریاست کے ایک سپاہی ہیں۔ دین اور ریاست کی خدمت اُن کے لیے باعثِ افتخار ہے اور وہ ریاست میں کسی منصب کے لیے کوشاں نہیں ہیں۔

شیخ عائض قرنی نے اس بات کو اپنے لیے فخر کا سبب قرار دیا کہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان نے ان کو دعوت دی اور قرنی کے قصیدے "لبيك يا سلمان" پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔

قرنی نے بتایا کہ نوجوانی کے دور میں وہ اپنے قبیلے کے ساتھ روایتی رقص میں شریک ہوتے تھے تاہم پھر ان کے والد نے دین داری کے تقاضے کے تحت اُن کو شرکت سے منع کر دیا۔

شیخ قرنی کے نزدیک ضرورت کے مطابق مبلغین کا اپنے مذہبی خطاب کے انداز کو تبدیل کرنا درست عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ "پہلے میرے خطاب میں شدت ہوتی تھی تاہم الحمد للہ میں نے غلطیوں سے سیکھا اور اپنے بہت سے خطابات سے رجوع کر لیا جن میں شدت پسندی پر مبنی موقف اختیار کیا گیا تھا"۔

شیخ عائض قرنی نے واضح کیا کہ وہ کوئی سیاسی تجزیہ کار نہیں جو حالات حاضرہ پر تبصرہ کریں۔ وہ سیاست کو تین طلاقیں دے چکے ہیں کیوں کہ طویل برسوں کے بعد ان کو یہ ادراک ہوا کہ اُن کا مشن دین کی دعوت اور تبلیغ ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنے اکاؤنٹس کے حوالے سے قرنی نے انہوں نے حلفیہ کہا کہ ٹویٹر پر انہوں پیسے کے عوض کوئی فالوور نہیں بنایا اور وہ اشتہارات پر کوئی رقم طلب نہیں کرتے۔

شیخ قرنی نے واضح کیا کہ انہوں نے بعض ہوٹلوں کی جانب سے مالی اور سیاحتی پیش کشوں کو مسترد کر دیا جو بدلے میں ٹویٹر پر ان کے اکاؤنٹ پر اشتہارات پوسٹ کرنا چاہتے تھے۔