.

یمنی حوثیوں کا سعودی شہر نجران کی جانب داغا گیا ایک اور بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے یمن سے حوثی باغیوں کے نجران شہر کی جانب داغے گئے ایک اور بیلسٹک میزائل کو فضا ہی میں سراغ لگا کر ناکارہ بنا دیا ہے۔

سعودی عرب کی قیات میں عرب اتحادی افواج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بتایا ہے کہ فضائی دفاعی افواج نے ہفتے کی دو پہر ایک بیلسٹک میزائل چلائے جانے کا سراغ لگایا تھا۔ یہ میزائل ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں نے یمن کی شمالی گورنری صعدہ سے سعودی علاقے کی جانب داغا تھا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ یہ بیلسٹک سعودی عرب کے شہر نجران کی جانب چھوڑا گیا تھا اور اس سے جان بوجھ کر شہریوں اور آباد علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی مگر سعودی عرب کی شاہی فضائیہ نے فضا ہی میں اس کو روک کر تباہ کردیا ہے۔

اقوام متحدہ کی قرارداد وں کی خلاف ورزی

کرنل ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ ’’ حوثیوں کی یہ جارحانہ اور اشتعال انگیز کارروائی اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ ایران نے اس مسلح گروپ کی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے ، اس کی جنگی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔یوں وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ دو قرار دادوں 2216 اور 2231 کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہےاور سعودی عرب کی سلامتی کے علاوہ خطے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے بھی خطرے کا موجب بن رہا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کے شہروں اور دیہات کے آباد علاقوں پر بیلسٹک میزائلوں کے حملے بین الاقوامی انسانی قانون کے بھی منافی ہیں۔انھوں نے اپنے اس مطالبے کا ا عادہ کیا ہے کہ عالمی برادری ایران کی جانب سے یمن کے حوثی باغیوں کو اسلحے اور بیلسٹک میزائلوں کی اسمگلنگ رکوانے کے لیے زیادہ سنجیدہ اور موّثر اقدامات کرے اور ا ن دونوں کا بین الاقوامی قوانین اور اقدار کی ننگی خلاف ورزیوں پر احتساب کرے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے حال ہی میں اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران حوثی باغیوں کو بیلسٹک میزائل اور اسلحہ مہیا کرنے میں ملوث ہے۔