.

افریقی ملک گنی میں قتل ہونے والے سعودی مبلغ کے مبیّنہ قاتل کی تصویر جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک گنی میں قتل ہونے والے سعودی عرب کے مبلغ شیخ عبدالعزیز بن صالح التویجری کے مبینہ قاتل کی موسیٰ کانت کی تصویر العربیہ ڈاٹ نیٹ کو موصول ہوئی ہے۔

شیخ عبد العزیز التویجر ی کو گذشتہ منگل کے روز گنی میں واقع ایک گاؤں کانت بلند وجو میں گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔العربیہ ڈاٹ نیٹ نے گنی سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی محمدو حوا کیتا سے رابطہ کیا ہے اور ان سے اس مبینہ قاتل کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی ہیں۔

انھوں نے بتایا ہے کہ اس قاتل کی عمر 27 سال ہے اور اس کو گذشتہ جمعرات کے روز گرفتار کر لیا گیا تھا۔ابتدائی اطلاعات میں یہ بتایا گیا تھا کہ کانت کی عمر 17 سال ہے اور اس کو بدھ کے روز اس کے گاؤں سے پکڑا گیا تھا۔

مسٹر کیتا نے یہ معلومات علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک انتظامی افسر سیدو کانت سے حاصل کی ہیں اور انھوں نے مزید بتایا ہے کہ ملزم کانت شادی شدہ ہے اور اس کے دو بچے ہیں۔اس نے اپنا بچپن اور لڑکپن آئیوری کوسٹ میں گزارا تھا۔وہ چھے سال قبل ہی وطن لوٹا تھا اور وہ دارالحکومت کوناکری اور پڑوسی ملک سیرالیون کے درمیان سفر کرتا رہتا تھا۔

اس مشتبہ ملزم کا سوشل میڈیا پر کوئی اکاؤنٹ نہیں تھا ،اس لیے انٹر نیٹ سے اس کی کوئی تصویر دستیاب نہیں ہوسکی ہے۔ کیٹا کے بہ قول وہ دوسرے دیہاتیوں کی طرح ملحد ہے۔یہ سب دیہاتی اللہ پر یقین نہیں رکھتے اور اصنام اور چرند وپرند وغیرہ کو پوجتے ہیں۔

عینی شاہدین نے کانت کو ایک شکاری بندوق اٹھائے اسی شاہراہ پر دیکھا تھا جہاں سے شیخ عبدالعزیز التویجری گاؤں کی مسجد میں نماز عشاء کی ادائی اور تقریر کے بعد گزرے تھے۔گاؤں میں علامہ التویجری کی موجودگی پر ملحدین خوش نہیں تھے اور ان میں سے چار نے مسجد سے نکلنے کے بعد ان کا پیچھا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

جب شیخ التویجری سیجویری شہر کی جانب جانے کے لیے اپنی کار میں بیٹھنے کے لیے مسجد سے نکلے تو کانت ان کے سامنے آ گیا تھا۔اس نے ان پر فائرنگ کردی جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے اور ان کا ٹیکسی ڈرائیور شدید زخمی ہوگیا تھا۔مقامی پولیس کو جب یقین ہوگیا کہ وہی سعودی مبلغ کا قاتل ہے تو اس کو جمعرات کی شب گرفتار کر لیا گیا تھا۔اب اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔