.

یمن: حوثیوں نے لڑائی میں شرکت کے وعدے پر قیدیوں کو جیل سے رہا کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں سرکاری فوج کے خلاف مسلح بغاوت کرنے والی حوثی ملیشیا کے سیکڑوں جنگجو سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی فوج کے فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں کام آگئے ہیں اور اب اس نے تعلیمی اداروں سے طلبہ کی بھرتی کے بعد جیلوں میں قید افراد کو محاذِ جنگ پر جانے کے وعدے پر فرار کرانا شروع کردیا ہے۔

حوثی ملیشیا نے اس سلسلے میں تازہ واردات یمن کی گورنری إب میں واقع سنٹرل جیل میں کی ہے۔اس جیل کے اندرونی ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیا نے متعدد قیدیوں کے ساتھ سودے بازی کی ہے اور ان سے کہا ہے کہ اگر وہ ان کی صفوں میں شامل ہونے اور محاذِ جنگ پر جا کر لڑنے پر راضی ہیں تو انھیں جیل سے چھوڑ دیا جائے گا۔

حوثیوں نے گذشتہ چند برسوں کے دوران میں ملک کی مختلف جیلوں سے بڑی تعداد میں قیدیوں کو رہا کیا ہے ۔ ان میں پھانسی کے سزا یافتہ قیدی بھی شامل تھے ۔ان کی رہائی کی صرف ایک شرط تھی کہ وہ جیل سے باہر آنے کے بعد اپنے گھروں کو نہیں جائیں گے بلکہ سیدھا حوثیوں کے ساتھ محاذِ جنگ پر جائیں گے اور ان کے شانہ بشانہ یمن کی سرکاری فوج یا عرب اتحادی فوج کے خلاف لڑیں گے۔

دریں اثناء میدان جنگ میں حوثیوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑرہا ہے اور ہفتے کے روز الحدیدہ میں عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں کے حملوں اور سرکاری فوج کے ساتھ جھڑپوں میں بیس حوثی جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ ان مہلوکین میں الحدیدہ میں حوثی انقلابی کمیٹی کے مقامی سربراہ کا بیٹا بھی شامل ہے۔