.

ترکی کا آپریشن 35 لاکھ شامی پناہ گزینوں کو وطن لوٹا دے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ "المرصد" کے مطابق شام کا شہر عفرین ترک فوج اور "غصن الزیتون" آپریشن میں شریک گروپوں کے ہاتھوں نیم محصور ہے۔

ترکی کی فوج ہفتے کے روز "غصن الزيتون" عسکری آپریشن کا آغاز کر کے شام کی شمالی اراضی میں داخل ہو گئی۔ انقرہ حکومت ایک سے زیادہ بار باور کرا چکی ہے کہ کارروائی کا مقصد اپنی سرحد کو "دہشت گرد جماعتوں" (اشارہ کرد یونٹوں کی جانب) سے محفوظ رکھنا ہے۔ بہرکیف آنے والے دنوں میں اس آپریشن کے مقاصد کے حوالے سے حقیقت مزید واضح ہو جائے گی۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن ایک بیان میں یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کے ملک کا ہدف یہ ہے کہ 35 لاکھ شامی پناہ گزینوں کی اُن کے اپنے وطن واپسی کو ممکن بنایا جائے۔ ایردوآن نے اس سلسلے میں طریقہ کار کو واضح نہیں کیا۔

ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدریم نے ایک گفتگو میں بتایا کہ ان کا ملک عفرین میں آپریشن کے ضمن میں شام ترکی سرحد پر شام کی اراضی کے اندر 30 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ایک سیف زون قائم کرنا چاہتا ہے۔

کئی مبصرین نے دونوں شخصیات کے بیانات کو مربوط کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا غصن الزيتون آپریشن کا مقصد ترکی میں موجود شامی پناہ گزینوں کی مذکورہ سیف زون میں واپسی ہے۔

دوسری جانب کُرد ڈیموکریٹک یونین پارٹی کے سابق سربراہ صالح مسلم نے اتوار کے روز ایک وڈیو میں عفرین شہر کے بارے میں گفتگو کی جو 2011 سے کرد یونٹوں کے زیر کنٹرول ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 12 لاکھ آبادی والا یہ شہر کئی برسوں سے ترکی کے ہاتھوں محصور ہے۔ شہر کی آبادی میں بڑی تعداد شام کے مختلف علاقوں سے نقل مکانی کر کے آنے والوں کی ہے۔

صالح مسلم نے ترکی کی کارروائیوں کو کھلی تنقید کا نشانہ بناتے "غصن الزيتون" آپریشن کو اُن کرد جنگجوؤں کے خلاف انتقامی کارروائی قرار دیا جنہوں نے کوبانی اور رقّہ میں داعش کو ہزیمت سے دوچار کیا تھا۔ انہوں نے باور کرایا کہ ان حملوں کے سامنے کرد یونٹوں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اپنا دفاع کریں اور آخر تک اس "شدید" حملے کے خلاف مزاحمت کریں۔ صالح مسلم کا کہنا ہے کہ انقرہ حکومت کی جانب سے تخلیق کردہ تمام جواز "غیر درست" ہیں۔ اس لیے کہ کئی برسوں سے ترک قصبوں کی جانب عفرین سے کوئی حملہ نہیں ہوا۔