.

سعودی قیادت میں عرب اتحاد کا یمن کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالرز کی امداد کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے یمن کے لیے مزید ڈیڑھ ارب ڈالرز کی امداد کا اعلان کیا ہے۔

عرب اتحاد نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ یمنی عوام تک انسانی امداد بہم پہنچانے کے لیے الحدیدہ سمیت ملک کی تمام بندرگاہوں کو کھلا رکھنے کے لیے اقدامات کرے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ یہ بندر گاہیں ہمہ وقت کھلی رہیں۔

اس اعلان سے قبل گذشتہ ہفتے سعودی عرب کے مرکزی بنک نے یمن کے مرکزی بنک میں دو ارب ڈالرز کی رقم منتقل کی تھی اور اس کا مقصد یمنی ریال کو مزید گراوٹ کا شکار ہونے سے بچانا تھا۔

عرب اتحاد کے بیان کے مطابق نئی اعلان کردہ امدادی رقم اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کے ذریعے تقسیم کی جا ئے گی اور اس کو غذائی اجناس اور دوسرے امدادی سامان کی یمن میں درآمد پر صرف کیا جائے گا۔

اتحاد کا کہنا ہے کہ وہ یمن کے لیے ماہانہ درآمد کی جانے والی غذائی اجناس کی مقدار کو بڑھا کر ایک کروڑ چالیس لاکھ میٹرک ٹن تک کرنا چاہتا ہے۔ گذشتہ سال ہر ماہ یمن میں ایک کروڑ دس لاکھ میٹرک ٹن غذائی اجناس درآمد کی گئی تھیں۔

اتحاد نے یمن کی بند رگاہوں کی گنجائش میں اضافے کے لیے بھی چار کروڑ ڈالرز دینے کا وعدہ کیا ہے تاکہ غذائی اجناس لے کر آنے والے اضافی بحری جہازوں کو وہاں لنگر انداز کیا جاسکے۔

اس نے سعودی دارالحکومت الریاض اور یمن کے وسطی صوبے مآرب کے درمیان ایک فضائی کوریڈور قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔اس کے تحت الریاض سے سی 130 مال بردار طیاروں کے ذریعے مختلف اقسام کا ضروری امدادی سامان ، غذائی اشیاء اور ادویہ بھیجی جائیں گی۔

اس کے علاوہ میں یمن میں متاثرہ افراد تک امدادی سامان بہم پہنچانے کے لیے سترہ محفوظ زمینی راہداریاں بنائی جائیں گی تاکہ یمن کے دور دراز علاقوں میں کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیمیں وہاں کسی رکاوٹ کے بغیر امدادی سامان پہنچا سکیں۔

عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی کا کہنا ہے کہ ان انسانی امدادی سرگرمیوں کو محفوظ طریقے سے پایہ تکمیل کو پہنچانے کے لیے عسکری وسائل بھی مہیا کیے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم مصائب کا شکار یمنیوں کے مسائل کم کرنے کے لیے ان تک پیشہ ورانہ انداز میں امدادی سامان پہنچانے کی ضمانت دیں گے‘‘۔