.

امریکا میں منفرد نوعیت کا مقدمہ، انسان نما بھیڑیے کے خلاف 90 شہادتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں آج پیر کے روز ملکی تاریخ میں جنسی ہراسیت کے سب سے بڑے مقدمے کی سماعت ہو رہی ہے۔ مقدمے میں 89 لڑکیاں اور ایک خاتون عرب نژاد امریکی لاری نصار کے خلاف شہادت دیں گی۔ مِشی گن یونی ورسٹی کا سابق پروفیسر لاری نصار چار مرتبہ سے زیادہ اولمپک کھیلوں میں امریکا کی جمناسٹک ٹیم کا ڈاکٹر رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نصار کی جانب سے جنسی ہراسیت کا شکار ہونے والی لڑکیوں اور خواتین کی تعداد 130 سے 140 کے درمیان ہے۔ مذکورہ 90 لڑکیاں اور خاتون میں بعض براہ راست گواہی کے لیے پیش ہوں گی جب کہ بعض اپنے وڈیو کلپس اور بعض اپنی تحریریں عدالت ارسال کریں گی۔

نصار کا نشانہ بننے والی خواتین میں امریکی جمناسٹک ٹیم کی نامور کھلاڑی اور اس کے پاس آنے والی عام مریض خواتین شامل ہیں۔

متاثرہ خواتین کی گواہی کا سلسلہ گذشتہ منگل سے شروع ہوا اور جمعہ تک 4 روز جاری رہا۔ کل منگل کے روز بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا جس کے بعد نصار کے خلاف فیصلہ سنایا جائے گا۔

عدالت میں چار روز تک گواہیاں پیش کیے جانے کے دوران نصار کی حالت غیر تھی اور وہ بعض مرتبہ ہذیانی انداز میں رونے لگتا۔

نصار کی ہراسیت کا نشانہ بننے والی ایک خاتون نے جنوبی کوریا سے اپنا وڈیو کلپ بھیجا جس کو عدالت میں ملزم کے سامنے پیش کیا گیا۔ بعض خواتین نے بتایا کہ نصار نے انہیں جب اپنی شیطانیت کا شکار بنایا تو ان کی عمر 6 برس سے زیادہ نہ تھی۔

عدالت میں ایک خاتون نے بتایا کہ اُس کی بیٹی نے نصار کے جنسی حملوں کے نتیجے میں رنج و غم سے تنگ آ کر 2009 میں خود کشی کر لی جب کہ اس کی عمر صرف 23 برس تھی۔

نصار نے 1980 سے 2015 تک امریکی اولمپک پروگرام میں کام کیا۔ 2015 میں اسے ملازمت سے نکال دیا گیا۔

ملزم نے نومبر 2017 میں اعتراف کیا کہ اس نے اپنے گھر میں ، جمناسٹک کلب اور مشی گن یونی ورسٹی میں اپنے دفتر میں خواتین کو جنسی حملوں کا نشانہ بنایا۔ نصار کو بچوں کی جنسی تصاویر سے متعلق جرائم کی وجہ سے پہلے ہی 60 برس قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ اب حالیہ مقدمے میں اسے مزید 25 - 40 برس قید کا سامنا ہے۔