.

فلپائن حماس کے گرفتار ’’ راکٹ سائنس دان ‘‘ کو بے دخل کر دے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلپائن نے ایک ادھیڑ عمر کے عراقی شہری کو ملک سے بے دخل کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس عراقی کو فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کا راکٹ سائنس دان قرار دیا جاتا ہے اور ان پر اسرائیل کی جانب چلائے جانے والے راکٹوں اور میزائلوں کی تیاری میں مدد دینے کا الزام ہے۔

فلپائن کے پولیس سربراہ رونالڈ ڈیلا روسا نے سوموار کے روز منیلا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق نے فلپائنی حکام کو تاجا محمد الجبوری کی ملک میں موجودگی کی ا طلاع دی تھی اور انھیں اتوار کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

البتہ پولیس سربراہ نے واضح کیا ہے کہ الجبوری کی گرفتاری ویزا کے مسائل کی وجہ سے عمل میں آئی ہے اور ان کے خلاف کسی جنگی سرگرمی میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ان کا کہنا تھا کہ الجبوری کے ویزا کی میعاد ختم ہوچکی تھی اور وہ فلپائن میں غیر قانونی طور پر مقیم تھے ۔اس لیے انھیں ملک سے بے دخل کیا جارہا ہے۔

مسٹر ڈیلا روسا کا کہنا تھا کہ ’’ گرفتار شخص نے حماس کا رکن ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ وہ ایک کیمیا دان ہے اور اس نے حماس کی راکٹ ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے میں مدد دی تھی۔ حماس کے مزاحمت کار یہ راکٹ اپنے علاقے سے اسرائیلی علاقوں کی جانب فائر کرتے رہتے ہیں‘‘۔

اس مشتبہ شخص کو نیوز کانفرنس کے دوران صحافیوں کے پیش کیا گیا تھا اور اس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ پولیس سربراہ کا کہنا تھا ، یہ پہلا موقع ہے کہ فلپائنی حکام نے حماس کے کسی مبیّنہ رکن کے خلاف کارروائی کی ہے اور اس کو بے دخل کرکے عراق بھیجا جائے گا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ حماس کا یہ رکن گذشتہ سال فلپائن میں کیوں آیا تھا۔اس وقت فلپائنی سکیورٹی فورسز جنوبی شہر ماراوی میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کررہی تھیں۔ الجبوری دارالحکومت منیلا ہی میں مقیم رہے تھے اور انھوں نے پولیس کو بتایا تھا کہ ان کا فلپائن میں دہشت گردی کی کسی کارروائی میں ملوث ہونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔