.

کابل ہوٹل حملہ ، ہلاکتوں کی تعداد 43 ہو گئی

ہلاک ہونے والوں میں غیر ملکی ایئرلائن کا عملہ اور سکیورٹی اہل کار شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان دارالحکومت کابل میں واقع انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل میں دہشت گردوں کے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 43 ہو گئی جب کہ درجنوں افراد زخمی ہیں۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا اعلان صحتِ عامہ کی وزارت کے ترجمان واجد مجروح نے کیا۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے حملے میں ہوٹل اسٹاف، مہمانوں سمیت سکیورٹی اہل کار بھی ہلاک ہوئے۔ ہلاک شدگان میں کم از کم 14 غیر ملکی شامل ہیں۔ ترجمان کے مطابق 41 غیر ملکیوں سمیت 153 افراد کو بچا لیا گیا۔

خیال رہے کہ دہشت گردوں کے حملے کے بعد عمارت کے مختلف حصوں میں آگ لگ گئی تھی، اس دوران مہمانوں نے بھاگ کر جان بچائی۔ کچھ مہمان چادروں کے ساتھ کھڑکیوں سے نیچے اترے اور کچھ کو افغان فورسز نے وہاں سے نکال کر بچایا۔

حملے کی ذمہ داری افغان طالبان کی جانب سے قبول کی گئی ہے۔

ضرورت ایجاد کی ماں

ہوٹل سے فرار ہونے والوں کے وڈیو کلپوں میں نظر آتا ہے کہ دھماکوں کی آواز سننے اور آگ کے شعلے بلند ہوتے دیکھنے کے بعد بعض افراد ہوٹل میں اپنے کمروں کی بالکونی سے فرار کی کوشش کر رہے ہیں۔

مسلح افراد نے ہفتے کی شب مقامی وقت کے مطابق 9 بجے کے بعد حملہ کیا۔ اس کے بعد 13 گھنٹوں تک لوگوں کو یرغمال بنا کر رکھا گیا اور اندھادھند فائرنگ اور دھماکے کیے گئے۔

ہوٹل کے اکاؤنٹنٹ کے مطابق بیرونی محافظین کے پاس کوئی تجربہ نہیں تھا اور وہ بنا کوئی جوابی کارروائی کے فرار ہو گئے۔ ہوٹل میں مقیم ایک مہمان عبدالرحمن ناصری نے بتایا کہ اُس نے 4 مسلح افراد کو فوج کی وردی میں دیکھا جو بلند آواز میں پشتو میں بات کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے چلّاتے ہوئے کہا کہ "ان میں سے کسی کو بھی زندہ نہ چھوڑو۔ فائرنگ کر کے ان سب کو قتل کر دو"۔