.

گجرات اور دہلی میں بم دھماکوں میں ملوّث بھارت کا ’’اسامہ بن لادن ‘‘ گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پولیس نے سنہ 2008 ء میں پے درپے بم دھماکوں میں ملوّث ایک مشتبہ اور مطلوب شخص عبدالسبحان قریشی کو ایک چھاپا مار کارروائی کے بعد گرفتار کر لیا ہے۔

قریشی کو بھارت کا اسامہ بن لادن قرار دیا جاتا رہا ہے اور وہ بھارتی مجاہدین نامی جنگجو تنظیم کا مرکزی بم ساز تھا۔ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق قریشی اسکول کے زمانے میں ایک خاموش طبع اور ذہین طالب علم تھا۔اس کے انتہا پسند بننے کا سفر 2001ء میں شروع ہوا تھا ۔

اس نے تب اچھی شہرت کی حامل ایک کمپیوٹر فرم میں ملازمت کے لیے تعلیم کو خیرباد کہہ دیا تھا۔یہ فر م تقریریں ریکارڈ اور ایڈٹ کیا کرتی تھی ۔اس کو بھارت میں اسلامی طلبہ تحریک کا ترجمان کا قرار دیا جاتا تھا۔ بعد میں ملک میں اس تحریک پر پابندی عاید کردی گئی تھی۔

دہلی کے ایک پولیس افسر نے بتایا ہے کہ 2008ء میں مجاہدین گروپ کے جنرل سیکریٹری کی گرفتاری کے بعد عبدالسبحان قریشی اس کا کرتا دھرتا بن گیا تھا۔اس مجاہدین گروپ نے 2007ء اور 2008ء میں جے پور ، احمد آباد ، دہلی اور شمالی ریاست اتر پردیش میں برقی میلوں کے ذریعے بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کی تھی اور بھارتی حکومت نے قریشی کا نام مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیا تھا۔

وہ گذشتہ دس سال سے مفرور تھا اور اخبار کی رپورٹ کے مطابق وہ پڑوسی ملک نیپال میں ایک خفیہ ٹھکانے میں رہ رہا تھا۔ اس نے اپنی گرفتاری کے بعد پولیس کو بتایا ہے کہ وہ 2008 ء میں مشرقی ریاست بہار کے سرحدی راستے سے فرار ہو کر نیپال چلا گیا تھا اور وہاں 2015ء تک مقیم رہا تھا۔پولیس کے بہ قول وہ نیپال کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

پولیس حکام نے بتایا ہے کہ ممبئی سے تعلق 45 سالہ قریشی کے چھے بہن ، بھائی ہیں ۔ وہ تمام اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور انتہا پسندانہ رجحانات کے حامل نہیں ہیں۔قریشی کے اساتذہ بھی اس کی گرفتاری پر ہکا بکا رہ گئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک اچھا اور ماڈل طالب علم تھا اور اس نے سیکنڈری اسکول کے امتحان میں 76.6 فی صد نمبر حاصل کیے تھے۔