.

شام میں ترکی کا آپریشن جاری ، عفرین میں 11 مقامات پر جیشِ حُر کا کنٹرول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی فوج نے "غصن الزیتون" آپریشن کے ضمن میں مسلسل تیسرے روز بھی شام کے شہر عفرین میں کرد پروٹیکشن یونٹس پر بم باری کا سلسلہ جاری رکھا۔ کرد ذرائع نے کارروائی میں شہریوں کی ہلاکت کا ذکر کیا ہے۔

اس دوران شام کی جیشِ حُر نے عفرین میں 11 ٹھکانوں پر کنٹرول حاصل کر لیا جب کہ کرد فورسز نے شمالی شام میں اپنے ہاتھ سے نکل جانے والے علاقوں کے باہر اپنے عناصر کو از سر نو تعینات کیا ہے۔

یاد رہے کہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ عفرین کے حوالے سے "اپنی ذمّے داری کو پورا کرے"۔

دوسری جانب امریکا نے اپنے وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کی زبانی اس بات کو باور کرانے پر اکتفا کیا کہ ان کا ملک شام کے شمال مغرب میں ایک سیف زون کے قیام کے واسطے ترکی کے ساتھ مل کر کام کرنے کا آرزو مند ہے۔

ٹیلرسن کا کہنا ہے کہ واشنگٹن انقرہ اور "بعض زمینی فورسز" کے ساتھ اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ ترکی کی جنوبی سرحد پر امن و امان کی صورت حال کو کس طرح مستحکم رکھا جائے تا کہ انقرہ کی جانب سے سکیورٹی اندیشوں کو دور کیا جا سکے۔