.

یمن میں انسانی امدادی سرگرمیوں سے ہزاروں اسامیاں پیدا ہوں گی: سعودی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں متعیّن سعودی سفیر محمد سعید آل جابر نے منگل کے روز ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ جنگ زدہ ملک میں عرب اتحاد کی انسانی امدادی سرگرمیوں سے یمنی عوام کے لیے براہ راست روز گار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

انھوں نے کہا ہے کہ یمن کے تمام صوبوں میں بلا استثنا اور بلا امتیاز یہ امدادی آپریشن انجام دیے جائیں گے۔تمام بندرگاہیں ، زمینی اور فضائی راستے کھلے رکھے جائیں گے تاکہ امدادی سامان کی بلا تعطل ترسیل جاری رہے۔

سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے سوموار کے روز یمن کے لیے مزید ڈیڑھ ارب ڈالرز کی امداد کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ یمنی عوام تک انسانی امداد بہم پہنچانے کے لیے الحدیدہ سمیت ملک کی تمام بندرگاہوں کو کھلا رکھنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے ۔

اس اعلان سے قبل گذشتہ ہفتے سعودی عرب کے مرکزی بنک نے یمن کے مرکزی بنک میں دو ارب ڈالرز کی رقم منتقل کی تھی اور اس کا مقصد یمنی ریال کو مزید گراوٹ کا شکار ہونے سے بچانا تھا۔

عرب اتحاد کے بیان کے مطابق نئی اعلان کردہ امدادی رقم اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کے ذریعے تقسیم کی جا ئے گی ۔عرب اتحاد یمن کے لیے ماہانہ درآمد کی جانے والی غذائی اجناس کی مقدار کو بڑھا کر ایک کروڑ چالیس لاکھ میٹرک ٹن تک کرنا چاہتا ہے۔ گذشتہ سال ہر ماہ یمن میں ایک کروڑ دس لاکھ میٹرک ٹن غذائی اجناس درآمد کی گئی تھیں۔

اتحاد نے یمن کی بند رگاہوں کی گنجائش میں اضافے کے لیے بھی چار کروڑ ڈالرز دینے کا وعدہ کیا ہے تاکہ غذائی اجناس لے کر آنے والے اضافی بحری جہازوں کو وہاں لنگر انداز ہونے میں کسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔