.

برطانوی وزیر خارجہ کا یمن بحران پربات چیت کے لیے اومان اور سعودی عرب کا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن آج بدھ سے خلیجی ممالک کا دو روزہ دورہ کررہے ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق وہ لندن میں امریکی ہم منصب ریکس ٹیلرسن اور پیرس میں دوسرے ممالک کے وزرائے خارجہ سے بات چیت کے بعد یہ دورہ کررہے ہیں۔

بورس جانسن آج اومانی قیادت سے میں پڑوسی ملک یمن میں جاری بحران کے سیاسی حل کے لیے بات چیت کرنے والے تھے۔ وہ کل جمعرات کو سعودی عرب جائیں گے جہاں وہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے اور ان سے یمن بحران اور ایران کی خطے میں جاری عدم استحکام کی سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر بات چیت کریں گے اور ان سے ایران سے طے شدہ جوہری معاہدے کی اہمیت کے بارے میں بھی گفتگو کریں گے۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق وزیر خارجہ بورس جانسن سعودی عرب کے اقتصادی اور سماجی اصلاحات پر مبنی ویژن 2030ء کے تحت منصوبوں میں برطانیہ کی شراکت داری کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

انھوں نے اس دورے پر روانہ ہونے سے قبل کہا کہ ’’ اومان اور سعودی عرب کا یمن میں جاری بحران کے خاتمے اور خاص طور پر سیاسی حل کی تلاش میں اہم کردار ہے۔میں ان کی قیادت سے گفتگو میں یہ واضح کروں گا کہ اس بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور صرف پُر امن بات چیت کے ذریعے ہی یمنی عوام کے لیے کوئی طویل المیعاد حل تلاش کیا جاسکتا ہے‘‘۔

انھوں نے سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کےاعلان کردہ نئے انسانی امدادی منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ انسانی امدادی سرگرمیوں میں اپنا قائدانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ سعودی ولی عہد کی قیادت میں مملکت کے سماجی اقتصادی اصلاحات کے پروگرام ویژن 2030ء کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ان داخلی اصلاحات سے معیشت متنوع ہورہی ہے اور دوسری جانب سعودی شہریوں کو اپنے معاملات کو سنبھالنے کا موقع مل رہا ہے۔برطانیہ مختلف شعبوں میں ایک عالمی لیڈر کی حیثیت سے سعودی عرب کی ان تبدیلیوں کے بھرپور عمل میں مدد کرسکتا ہے‘‘۔