.

عالمی کمپنیوں کو ایران جانے سے روکنے کے لیے امریکی تنظیم کی مہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی تنظیم United Against Nuclear Iran (UANI) نے عالمی کمپنیوں کو ایران میں داخل ہونے سے باز رکھنے کے لیے ایک مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان دہشت گردی اور مالی جرائم کے انسداد کے امور سے متعلق امریکی وزیر خزانہ کے معاون سيگال مینڈلکر کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے عالمی کمپنیوں کو ایران کے ساتھ معاملات کے نتائج سے خبردار کیا تھا۔ اس لیے کہ ایرانی معیشت پر غلبہ رکھنے والی پاسداران انقلاب تنظیم سرمایہ کاری کی مالی رقوم کو دہشت گردی سپورٹ میں استعمال کرتی ہے۔

امریکی تنظیم UANI کے سربراہ ڈیوڈ ایبسن نے The Hill ویب سائٹ پر شائع مضمون میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ان کی تنظیم مذکورہ مہم جاری رکھے گی۔ انہوں نے بعض غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے بالخصوص 2015 میں جوہری معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد سے ایران کے ساتھ معاملات کے فیصلے پر افسوس کا بھی اظہار کیا۔

ایبس کے مطابق دیگر رپورٹوں مثلا مالی اقدامات سے متعلق ورکنگ گروپ (FATF) کی رپورٹ میں ایران کو ایک خطرناک اور تعاون نہ کرنے والا فریق قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ سرکاری بدعنوانی اور حزب اللہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کی فنڈنگ اس مطالبے کو تقویت دیتی ہیں کہ عالمی کمپنیوں کو ایران کے ساتھ معاملات کیوں نہیں کرنا چاہیّں۔ گزشتہ برس ستمبر میں خبر رساں ایجنسیوں نے بتایا تھا کہ تہران نے حزب اللہ کے لیے اپنی مالی سپورٹ کو بڑھا دیا ہے جو 2017 میں سالانہ 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

امریکی تنظیم کے سربراہ کے مطابق اقوام متحدہ نے کچھ عرصہ قبل انکشاف کیا تھا کہ 18 برس سے کم سن کم از کم 90 افراد ایسے ہیں جن کو ایرانی جیلوں میں سزائے موت کا سامنا ہے۔ ان میں اکثر سزاؤں پر فرد جرم کے بغیر عمل درامد ہوتا ہے۔

ڈیوڈ ایبسن کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیمUANI نے کچھ عرصہ قبل ایران سے متعلق ایک پیمانے Iran Risk Snapshot کا اعلان کیا جس میں مالی ، قانونی ، سماجی اور سیاسی نوعیت کے 27 اشاریوں کو شامل کیا گیا تھا۔ اس میں دنیا بھر کی ممتاز تنظیموں نے تہران کے ساتھ تجارتی کارروائیوں کے خطرات کا تجزیہ کیا اور اس بات کو باور کرایا کہ ایران مسلسل طور ادنی درجے پر یا اس کے قریب موجود ہے۔