.

مذہب امریکیوں کی اسرائیل کی طرف داری کا اہم سبب: سروے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں امریکا میں ’پیو ریسرچ‘ سینٹر کےزیراہتمام اسرائیل کے لیے امریکیوں کی طرف داری پر رائے عامہ کا ایک جائزہ لیا گیا۔ اس رپورٹ کے جاری کردہ نتائج میں بتایا گیا ہے کہ امریکیوں کی اسرائیل کی طرف داری اور بے جا جانب داری کا ایک سبب مذہب بھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مریکا میں 79 فی صد ری پبلیکن اور 27 فی صد ڈیموکریٹس اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں۔

چالیس سال میں ہونے والی تبدیلیاں

’پیو مرکز’ کی رپورٹ میں امریکا میں اسرائیل کے حوالے سے گذشتہ چالیس سال کے دوران ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ آج سے چالیس برس پیشتر اسرائیل کی حمایت کے حوالے سے ری پبلیکن اور ڈیموکریٹس کے نقطہ نظر میں کوئی زیادہ فرق نہیں تھا۔ چالیس سال پہلے 49 فی صد ری پبلیکنز اور 44 فی صد ڈیموکریٹس اسرائیل کی حمایت کرتے تھے جب کہ امریکا کے 45 فی صد آزاد خیال اور لبرل بھی اسرائیل کی طرف داری کرنے میں مشہور تھے۔ اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ چار عشرے پیشتر بیشتر امریکیوں کا اسرائیل کے بارے میں نقطہ قریب قریب ایک ہی جیسا تھا۔

امریکی ری پبلیکنز میں اسرائیل کی حمایت میں اضافہ سابق صدر جارج بش کےدور سے ہوا اور آج ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں یہ اپنے بام عروج پر پہنچا۔ رواں عشرے کے دوران ڈیموکریٹس کی اسرائیل میں حمایت میں کمی آئی جو اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔ سنہ 2001ء میں ڈیموکریٹس کی جانب سے فلسطینیوں کی حمایت 25 فی صد تھی جو اس وقت سب سے زیادہ حمایت شمار کی جاتی تھی۔

لبرل فلسطینیوں سے محبت کرتے ہیں

پیو مرکز کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کے لبرل حلقوں کا اسرائیل اور فلسطینیوں کے بارے میں نقطہ نظر ڈیموکریٹس کے خیالات کے قریب ہے۔ دونوں جماعتوں [ری پبلیکن اور ڈیموکریٹس] کے 35 فی صد لبرز فلسطینیوں کے حامی ہیں۔ ان میں لبرل ڈیموکریٹس کی اسرائیل کی طرف داری کرنے والوں کی تعداد 19 فی صد ہے۔ سنہ 2001ء کے بعد یہ کم ترین سطح ہے۔ آج سے دو عشرے قبل لبرلز کی اسرائیل کی حمایت 48فی صد تھی اور فلسطینیوں کی حمایتیوں کی تعداد صرف 18 فی صد تھی۔

سال 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران ڈیموکریٹس کے امیدوار برنی سنڈرز کو انہی لبرلز کے ووٹوں کی توقع تھی۔ ان کے حامیوں میں فلسطینی نژاد امریکی محجب خاتون لیندا صرصور جیسی خواتین شامل تھیں اور ان کا مقابلہ ہیلری کلنٹن سے تھا۔

سنڈرز نے قضیہ فلسطین کے حامی جیمز زگبی کو جنرل کانگریس کے انعقاد سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی کا سیاسی منشور تحریر کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔

انجیلی عیسائیوں کا موقف

’پیو ریسرچ سینٹر‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے سفید فام انجیلی عیسائیوں کی اکثریت اسرائیل کی طرف داری کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 78 فی صد انجیلی عیسائی اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں۔ مذہب سے غیروابستہ 26 فی صد اسرائیل کی اور 29 فی صد فلسطینیوں کے حامی ہیں۔

پیومرکز کے تجزیے کے مطابق امریکا میں اسرائیل کی حمایت کا ایک عنصر مذہب بھی ہے۔ امریکا میں انجیلی میسحی اسرائیل کی حمایت اور اسرائیل کے بارے میں پالیسیوں پر بڑےپیمانے پر اثرا انداز ہوے ہیں

پیو سینٹر کی طرف سےیہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے امریکی نائب صدر مائیک پینس نے حال ہی میں اسرائیل کا دورہ کیا۔ چند ہفتے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔ ٹرمپ اور مائیک پینس دونوں نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا اور القدس کے دورے کے دوران ’دیوار براق‘[دیوار گریہ] پر حاضری دی۔

سروے رپورٹ کے مطابق 30 فی صدامریکیوں کا خیال ہےکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کے طرف دار ہیں۔ سنہ 2010ء میں ایسے ہی ایک سروے میں سابق صدر باراک اوباما کو اسرائیل کا حمایتی قرار دیا گیا تھا۔