.

حوثیوں کی جانب سے جنگ میں جھونکے27 بچے حکومت کے حوالے

بچوں کو عرب اتحادی فوج نے یمن کی سرحد سے تحویل میں لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں قیام امن کے لیے قائم عرب فوجی اتحاد نے ایک کارروائی کے دوران حوثیوں کی طرف سے جنگ میں جھونکے گئے 27 بچوں کو تحویل میں لینے کے بعد یمنی حکومت کے حوالے کردیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ان بچوں کو سعودی عرب کی سرحد کے قریب واقع یمنی علاقوں سے گرفتار کیا گیا۔

عرب اتحادی فوج کی جانب سے تحویل میں لیئ گئے بچے سرحدی گذرگاہ شرورہ سے یمنی حکام کے حوالے کیے گئے۔ ان تمام کم سن جنگجوؤں کی عمریں 18 سال سے کم تھیں۔ انہیں ایران نواز حوثی شدت پسندوں کی جانب سے جنگ میں جھونکا گیا تھا جس کے بعد انہیں لڑائی کے لیے سعودی عرب کی سرحد کے قریب لایا گیا۔

ان بچوں کو سعودی ہلال احمر اور عالمی ریڈ کراس گروپون کے مندوبین کی موجودگی میں مآرب کی پولیس کے حوالے کیا گیا۔

بچوں کو اپنی تحویل میں لینے کے موقع پر مآرب کے ڈائریکٹر جنرل پولیس عبدالملک المدانی نے یمن میں بغاوت کچلنے میں سعودی عرب کی قیادت میں کام کرنے والے عرب اتحاد کی خدمات اور قربانیوں کوخراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے جنگ میں جھونکے بچوں کو قبضے میں لینے کے بعد بغیر کسی گزند پہنچائے یمن کے حوالے کرنے کو بھی سراہا اور عرب فوج کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

المدانی کا کہنا تھا کہ حوثیوں نے اپنے مذموم جنگی عزائم اور غیرملکی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے بچوں کو بھی جنگ کا ایندھن بنا رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ میں جھونکے گئے بچوں کی بحالی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے اور ان کی ہرضرورت پوری کی جائے گی۔

خیال رہے کہ یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے جنگ میں جھونکے بچوں کو بازیابی کے بعد بحالی کے عمل سے گذارا جاتا ہے۔ اس ضمن میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعودی کی جانب سے قائم کردہ ’شاہ سلمان ریلیف مرکز‘ بھی جنگ سے متاثرہ بچوں کی بحالی میں مدد کررہا ہے۔ حال ہی میں شاہ سلمان ریلیف مرکز نے مآرب، الجوف، عمران اور تعز گورنریوں میں جنگ میں جھونکے گئے 80 بچوں کو بحالی کے عمل سے گذارنے کے بعد انہیں واپس ان کے گھروں کو بھیجا تھا۔

شاہ سلمان ریلیف مرکز تیسری کھپ میں پانچ گورنریوں مآرب، الجوف، تعز، صنعاء اور عمران کے جنگ سے متاثرہ بچوں اور بچیوں کی بحالی کاکام جاری رکھے ہوئے ہے۔