.

امریکا اور یورپ نے ایران سے جوہری معاہدے میں اسقام پر کام شروع کردیا: ٹیلرسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کہا ہے کہ ایران سے طے شدہ جوہری معاہدے میں موجود اسقام کو دور کرنے کے لیے ورکنگ گروپوں نے کام شروع کردیا ہے ۔

وہ یورپ کے ایک ہفتے کے دورے کے اختتام پر پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں اپنے پولش ہم منصب کے ساتھ صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ وہ ایران سے جوہری معاہدے پر نظرثانی کے لیے برطانیہ ، فرانس اور جرمنی کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

ریکس ٹیلرسن نے کہا کہ ’’ تاریک رات کے بعد ہمیشہ صبح ہی ہوتی ہے۔ورکنگ گروپوں نے اصولوں پر اتفاق رائے کے لیے پہلے ہی کام شروع کر رکھا ہے۔اب ہم یہ بھی کوشش کررہے ہیں کہ ان ایشوز کو طے کرنے کے لیے ہم ایران کے ساتھ کہاں تک بات چیت کر سکتے ہیں‘‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گذشتہ سال جنوری میں برسر اقتدار آنے کے بعد سے ایران سے 2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدے کی تنسیخ کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر یورپی ممالک ا س کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو پھر وہ اس میں موجود اسقام دور کریں اور اس مقصد کے لیے ایران کے ساتھ ایک ضمنی سمجھوتا طے کریں جس کے تحت اس کے لیے جوہری بم کی تیاری کا حساس کام بالکل ناممکن ہوجائے اور موجودہ معاہدے میں ان تصریحات میں ترمیم کی جائے یا انھیں حذف کیا جائے جن کے تحت وہ بتدریج ایڈوانس جوہری کام بحال کر سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ ایران کے خلاف بیلسٹک میزائل پروگرام کی وجہ سے بھی مزید سخت پابندیاں عاید کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ایران جوہری معاہدے پر ازسر نو کسی قسم کی بات چیت سے انکار کرچکا ہے۔

ایران کا خطے میں ضرررساں کردار

وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کا کہنا تھا کہ ایران سے جوہری معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کی پالیسی کا ایک چھوٹا سا حصہ تھا اور امریکا کو ایران کی جانب سے یمن میں حوثی باغیوں کی حمایت اور خطے میں ملیشیاؤں کو اسلحہ مہیا کرنے سمیت دوسرے امور کی وجہ سے زیادہ تشویش لاحق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ ہمارا ورکنگ گروپ ان شعبوں کی بھی نشان دہی کرنا چاہتا ہے جن میں ہم ایران کو اس کے ضرررساں کردار سے باز رکھنے کے لیے یورپ کے ساتھ وسیع تر تعاون کرسکتے ہیں۔

روس پر الزام

ریکس ٹیلرسن نے روس کے خلاف امریکا کے اس الزام کا اعادہ کیا ہے کہ شام کے علاقے مشرقی الغوطہ میں شہریوں پر کیمیائی حملے کی روس پر ہی ذمے داری عاید ہوتی ہے۔ روس نے اسی ہفتے امریکا کے اس الزام کی تردید کی تھی کہ روسی اور شامی فوج نے یہ کیمیائی حملہ کیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ ایک بے بنیاد الزام ہے۔

لیکن ریکس ٹیلرسن نے نیوز کانفرنس میں دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ’’میں اپنے بیان پر قائم ہوں ۔شام میں شہری آبادی کے خلاف کیمیائی حملوں پر ہم روس ہی کو ذمے دار گردانتے ہیں ۔بشار الاسد کے اتحادی کی حیثیت سے وہی ان حملوں کا ذمے دار ہے‘‘۔