.

امریکا بدستور ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے باز رکھے گا: صدر ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان کا ملک ایران کو جوہری بم کی تیاری سے بدستور باز رکھے گا۔

انھوں نے سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم اپنے شراکت داروں پر زور دیتے رہیں گے کہ وہ ایران کی جانب سے دہشت گردوں کی حمایت اور جوہری بم کی تیاری کاراستہ روکے رکھیں۔ہم داعش ایسی جہادی دہشت گرد تنظیموں کو تباہ کرنے کے لیے بھی اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔اب تک اس میں کامیاب جارہے ہیں‘‘۔

امریکی صدر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں کہا :’’ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ داعش کو شکست دینے کے لیے قائم اتحاد نے عراق اور شام میں ان قاتلوں کے زیر قبضہ 100 فی صد علاقے کو واپس لے لیا ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا:’’ ابھی لڑائی جاری ہے اور حاصل کردہ کامیابیوں کو پکا کرنے کے لیے ابھی بہت کام باقی ہے۔ہم اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ افغانستان پھر کبھی شہریوں کا قتل عام کرنے والے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہ بنے ‘‘۔

انھوں نے کہا کہ’’ میں ان ممالک کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو یہاں موجود ہیں اور جنھوں نے ان اہم کوششوں میں حصہ ڈالا ہے،آپ نہ صرف اپنے شہریوں کو محفوظ بنا رہے ہیں بلکہ لاکھوں ،کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کو بھی بچا رہے ہیں اور ان میں امید کو بھی بحال کررہے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گذشتہ سال جنوری میں برسر اقتدار آنے کے بعد سے ایک سے زیادہ مرتبہ ایران سے 2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدے کو مکمل طور پر منسوخ کرنے کے اعلانات کر چکے ہیں لیکن اس معاہدے میں شریک دوسرے ممالک ان کی مخالفت کر چکے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے اعلانات کو عملی جامہ نہیں پہنا سکے ہیں۔