.

الامارات کی شکاگو جانے والی پرواز میں ’’اکھڑ مسافر‘‘ 8 گھنٹے تک زیر ِحراست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دبئی کی ملکیتی الامارات ائیر لائنز کی شکاگو جانے والے ایک پرواز میں ایک اکھڑ مسافر کو غیر شائستہ طرز عمل اپنانے پر عملہ نے پکڑ لیا اور ا س کے اس مسافر کے بہ قول آٹھ گھنٹے تک کسی کھانے اور پانی کے بغیر حراست میں رکھا گیا ہے۔

الامارات نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ دبئی سے 23 جنوری کو شکاگو جانے والی پرواز ای کے 235 میں سوار ایک مسافر نے دوران سفر غلط طرز عمل کا مظاہرہ کیا تھا جس کے بعد طیارے کے عملہ نے اس کو قابو کر لیا اور شکاگو کے ہوائی اڈے پر اترنے کے بعد اس مسافر کو حکام کے حوالے کردیا تھا‘‘۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ہمارے مسافروں اور عملہ کا تحفظ ہمارے لیے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ہم اس موقع پر اس پرواز میں سوار تمام مسافروں کا صورت حال کو سمجھنے پرشکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ بالخصوص ان افراد کا جنھوں نے طیارے کے عملہ کی اس مسافر پر قابو پانے میں مدد کی تھی‘‘۔

بعض رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس مسافر کی عمر 72 سال تھی ۔اس نے کہا ہے کہ ’’مجھے شکاگو جانے والی بین الاقوامی پرواز میں باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا‘‘۔شکاگو سے تعلق رکھنے والی ایک نیوز ویب سائٹ چینل 7 کے مطابق مسافر ڈیوڈ یوکیسون نے بتایا ہے کہ ’’اس کو پرواز کے دوران تشدد سے زخم آئے تھے اور وہ ابھی تک مندمل نہیں ہوئے‘‘ ۔

یوکیسون کا کہنا ہے کہ اس کو آٹھ گھنٹے تک بھوکا پیاسا رکھا گیا تھا اور طیارے کے شکاگو کے ہوائی اڈے پر اترنے کے بعد اس کو ایک ایمبولینس پر ڈال کر اسپتال لے جایا گیا تھا۔جہاں وہ چار روز تک زیر علاج رہا تھا لیکن اس کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ اس کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا تھا اور کیوں؟

اس کے رشتے داروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد سے ابھی تک یوکیسون کے ہوش وحواس بحال نہیں ہوئے ہیں۔اب اس کے وکلاء اماراتی فضائی کمپنی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی تیاری کررہے ہیں۔