.

امریکا.. تیل کی نئی ریاست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی توانائی کی ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے اکتوبر 2017 کے دوران 17 لاکھ بیرل تیل برآمد کیا جو 2015 میں امریکی تیل کی برآمد پر عائد پابندی اٹھائے جانے کے بعد بلند ترین حجم ہے۔

تیل پیدا کرنے والے ممالک بالخصوص سعودی عرب اور روس کے مقابل یہ اعداد و شمار بہت کم ہیں تاہم یہ مقدار ایک عظیم اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔ 2017 کے جون ، جولائی اور اگست میں تیل کی برآمد کا حجم 8 لاکھ بیرل کے قریب رہا تاہم ستمبر اور اکتوبر میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا اور بڑھوتی ماہانہ دس لاکھ بیرل تک پہنچ گئی۔

مذکورہ اضافے سے دو اہم باتیں سامنے آتی ہیں۔ پہلی یہ کہ امریکا نے اپنا تیل کا یومیہ استعمال 1.9 کروڑ بیرل سے اوپر پر برقرار رکھا۔ دوسری بات یہ کہ امریکا اپنی تیل پیدا کرنے کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔ یہ پیداوار یومیہ 1 کروڑ بیرل تک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ پچاس برسوں میں امریکی پیداوار کی اعلی ترین شرح ہے۔

امریکی پیداوار میں مذکورہ اضافہ چٹان سے تیل نکالنے میں امریکی ٹکنالوجی کی کامیابی کا مرہون منت ہے۔ اس طرح آئل فیلڈز سے متعلق اخراجات میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔

بعض اندازوں کے مطابق چٹان سے تیل نکالنے کی فی بیرل لاگت کئی برسوں سے 50 ڈالر کے قریب تھی۔ ایسے میں تھوڑا منافع کمانے کے لیے بھی امریکی کمپنیوں کے لیے ضروری تھا کہ تیل کی منڈی میں فی بیرل نرخ 60 ڈالر ہوں۔ تاہم جدید ٹیکنالوجی نے امریکی کمپنیوں کو لاگت کم کرنے میں مدد دی اور بعض اندازوں کے مطابق یہ اخراجات کم ہو کر فی بیرل 50 ڈالر سے بھی کم بلکہ شاید 40 ڈالر تک آ گئے۔

ادھر بین الاقوامی سطح پر تیل کے استعمال اور عالمی معیشت کے استحکام میں اضافہ دیکھنے میں آیا جس کے بعد تیل کی فی بیرل قیمت بڑھ کر 65 ڈالر تک آ گئی۔

امریکی توانائی کی ایجنسی کے اندازے کے مطابق امریکی کمپنیاں آئندہ چوبیس ماہ کے دوران اپنی پیداوار بڑھانے میں کامیاب ہو جائیں گی یہاں تک کہ امریکا کی یومیہ پیداوار 1.1 کروڑ بیرل تک پہنچ جائے۔ یہ 1970 کے بعد امریکی تیل کی پیداوار کی بلند ترین سطح ہو گی۔

یاد رہے کہ طویل برسوں تک یہ معاملہ رہا کہ آئل فیلڈز میں یا تیل کی بین الاقوامی برآمدات کی بندرگاہوں میں کسی بھی نوعیت کا معمولی سا تعطل تیل کی قیمت میں اضافے کا براہ راست سبب بن جاتا تھا، تاہم اب صورت حال تبدیل ہو رہی ہے۔ مثلا معمر قذافی کی حکومت کے سقوط کے بعد لیبیا کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی منڈی سے نکل جانے پر تیل کی عالمی منڈی بالخصوص امریکا متاثر نہیں ہوا۔