.

شامی حزبِ اختلاف کا سوچی مذاکرات کا آغاز سے قبل ہی بائیکاٹ

حزبِ اختلاف کا وفد میزبان روس کی جانب سے اسد رجیم کی پذیرائی اور پرچم آویزاں کرنے پر نالاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے شہر سوچی میں شامی حزب اختلاف نے ملک میں گذشتہ سات سال سے جاری بحران کے حل کے لیے ہونے والے مذاکرات کا ان کے آغاز سے قبل ہی بائیکاٹ کردیا ہے۔

سوچی میں روس کے زیر اہتمام یہ شام امن کانفرنس پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق دو دن ہونا تھی لیکن اب شامی حزب ِاختلاف کے گروپوں کے بائیکاٹ کے بعد یہ صرف ایک ہی دن منعقد ہورہی ہے۔

العربیہ کے ایک رپورٹر نے اطلاع دی ہے کہ شام کے شمالی علاقے سے تعلق رکھنے والی حزب ِ اختلاف کے نمائندوں پر مشتمل وفد سوچی سے ترکی واپس چلا گیا ہے۔

ان میں سے ایک دھڑے کے نمائندے نے العربیہ کے رپورٹر کو بتایا ہے کہ ’’ ہم سے روس پہنچنے سے قبل سیاسی اور لاجسٹیکل مدد کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن سوچی کے ہوائی اڈے پر پہنچنے کے بعد بھی یہ وعدہ ایفا نہیں کیا گیا‘‘۔

سوچی میں کانفرنس کی جگہ پر شامی رجیم کے نعرے اور پرچم آویزاں تھے جس پر صدر بشارلاسد کے مخالف حزب اختلاف کے ارکان سخت نالاں ہوئے ہیں اور انھوں نے اپنی آمد کے بعد ائیرپورٹ سے ہی باہر نکلنے سے انکار کردیا۔شام کی مسلح حزب اختلاف نے اسد رجیم کے پرچم کے ساتھ شامی انقلاب کا پرچم آویزاں کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن اس کو تسلیم نہیں کیا گیا ۔

شامی آئین کی تیاری کے لیے کمیٹی کی تشکیل

سوچی کانفرنس کے شرکاء کے ذمے اہم کام شام کے نئے آئین کی تیاری کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل ہوگا۔ یہ کمیٹی اقوام متحدہ کی نگرانی میں کام کرے گی اور نیا آئین مرتب کرکے ملک کے مختلف دھڑوں کو پیش کرے گی ۔

شام کے لیے روس کے خصوصی ایلچی اور سوچی مذاکرات میں اپنے ملک کے وفد کے سربراہ الیگزینڈر لافریتنیوف نے کہا ہے کہ کانفرنس میں بات چیت کے بعد تیار کی جانے والی حتمی دستاویز کو اقوام متحدہ کو پیش کیا جائے گا۔اس کے علاوہ سوچی مذاکرات کا ایک اور اہم کام صدارتی کمیٹی ، اعلیٰ کمیٹی اور ایک دستوری کمیٹی کا قیام ہے۔

روس کی انٹر فیکس نیوز ایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام اسٹافن ڈی میستورا دستوری کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔