.

نئی دہلی میں 8 ماہ کی بچی سے درندگی کے خلاف مظاہرے ،درندہ صفت ملزم گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک ستائیس سالہ درندہ صفت نوجوان نے اپنی صرف آٹھ ماہ کی کزن کو شیطانی ہوس کا نشانہ بنایا ہے اور اس کی درندگی کے نتیجے میں یہ شیر خوار بچی انتہائی نگہداشت کے یونٹ ( آئی سی یو ) میں موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہے ۔

یہ اندوہ ناک واقعہ نئی دہلی کے علاقے شاکر بستی میں اتوار کے روز پیش آیا تھا۔پولیس کے مطابق بچی کے نازک اعضاء بری طرح زخمی ہوئے ہیں ۔ وہ ایک مقامی اسپتال میں زیر علاج ہے اور ابھی تک اس کی حالت تشویش ناک ہے۔اس واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد انسانی حقوق کے کارکنان نے نئی دہلی میں احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور وزیراعظم نریندر مودی سے ملزم کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق واقعے کے وقت بچی کے والدین گھر پر موجود نہیں تھے۔وہ مزدوری پیشہ ہیں اور کام پر گئے ہوئے تھے۔اس دوران ملزم کی ماں بچی کی دیکھ بھال کررہی تھی۔جب یہ ملزم گھر میں آیا تو وہ بچی کو کھلانے اور لوری دینے کے بہانے ایک کمرے میں لے گیا اور اس سے مُنھ کالا کرنے لگا۔اس نے کم سن بچی کا مُنھ بند کیے رکھا تا کہ گھر میں کوئی اور اس کے چیخنے چلانے کی آواز نہ سن سکے۔

اس بدقسمت بچی کی ماں جب رات کو محلے میں کام کاج کے بعد گھر لوٹی تو اس نے اپنی بیٹی کو بستر پر خون میں لت پت پایا اور وہ درد سے کراہ رہی تھی۔اس کو فوری طور پر نئی دہلی کے کالاوتی سر ن اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس پر جنسی حملے کی تصدیق کردی اور پولیس کو بھی واقعے کے بارے میں اطلاع دے دی۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس بچی کے نازک اعضاء کی کئی گھنٹے تک سرجری کی گئی ہے اور ابھی تک اس کی حالت خطرے میں ہے۔

دریں اثناء دہلی کمیشن برائے خواتین کی چئیرپرسن سواتی مالیوال نے ٹویٹر پر اس بچی پر اس افسوس ناک جنسی حملے کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ ’’ یہ بہت ہی برا ہوا ہے‘‘۔انھوں نے دارالحکومت میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جنسی حملوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ وہ بھی اسی عمارت میں رہ رہا تھا جہاں متاثرہ بچی کا خاندان قیام پذیر ہے۔ابتدا میں جب بچی کے والد نے اس سے پوچھ تاچھ کی تو اس نے انکار کیا اور گھر سے بھاگ گیا تھا جس پر پولیس کا شک پختہ ہو گیا کہ وہی ملزم ہے۔بعد میں پولیس نے اس کا پیچھا کرکے اس کو گرفتار کر لیا ہے۔پولیس نے بتایا ہے کہ اس نے تفتیش کے دوران بچی پر جنسی حملے کا اعتراف کر لیا ہے۔اس کے خلاف بچوں کو جنسی حملوں سے تحفظ کے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔اس کے تحت اس کو عمر قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی بچوں کے حقوق سے متعلق ایک کمیٹی نے 2014ء میں اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ بھارت میں عصمت ریزی کی متاثرہ ہر تین عورتوں میں سے ایک کم سن بچی ہوتی ہے۔اس نے بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔

بھارت کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق 2015ء میں ملک بھر میں بچوں سے جنسی زیادتی کے قریباً گیارہ ہزار کیس رپورٹ ہوئے تھے۔اس کا کہنا تھا کہ صرف دہلی میں روزانہ تین بچوں کی عصمت ریزی کی جاتی ہے۔ا س معاملے میں دارالحکومت اس حد تک بدنام ہوچکا ہے کہ اس کو بھارت کا ’’ریپ کیپٹل‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔