.

’العربیہ‘ کی کورنگ ٹیم سلیمانیہ میں ایرانی کردوں کے درمیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں ’العربیہ‘ نیوز چینل کی کورنگ ٹیم نے عراق کے سرحدی شہر السلیمانیہ کا دورہ کیا جہاں ایران کے کردوں کا ایک کیمپ بھی قائم ہے۔ العربیہ کی ٹیم ایرانی کردوں کے کیمپ میں بھی گئی اور ایرانی کرد کارکنوں سے ملاقات میں ان کے حالات واقعات معلوم کیے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراق کے سرحدی شہر سلیمانیہ میں ایرانی کُردوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔ ایران کے اندر حالیہ ہفتوں کے دوران ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں سلیمانیہ میں موجود کردوں کا اہم کردار رہا ہے۔

ایران کی کردستان ورکرز پارٹی کے بڑی تعداد میں کارکن موجود ہیں جنہیں عسکری تربیت سمیت بعض دیگر فنون کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔

سلیمانیہ شہر کے بالمقابل ایرانی شہر سردشت واقع ہے جہاں پر ایرانی کردوں کی جانب سے ایرانی رجیم کے خلاف متعدد کارروائیوں میں حصہ لیا۔

ایرانی کردستان پارٹی ایران میں ہونے والے پر امن عوامی احتجاجی مظاہروں کی سب سے بڑی سپورٹر ہے۔ ایران کے اندر بسنے والے کرد شہری بھی ظالمانہ حکومت کے خلاف نکالے جانےوالے جلوسوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہےہیں۔

عراق کے شہر سلیمانیہ میں عسکری کیمپوں میں موجود کرد نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنے اہل خانہ کو چھوڑ کر یہاں آئے ہیں۔ العربیہ کی ٹیم سے بات کرتے ہوئے انہوں نے ایرانی مظالم پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھاکہ ایرانی رجیم کی جانب سے قومیت کی بنیاد پر انہیں دوہری زیادیتوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہیں کرد ہونے کی بناء پر الگ سے مظالم کا سامنا ہے۔ کردوں کو نوروز جیسے اپنے قومی تہوار منانے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔

کردوں کو ریاست دشمن خیال کیا جاتا ہے اور انہیں ریاست کی حساس تنصیبات کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ سرکاری ملازمتوں میں انہیں نظرانداز کیا جاتا ہے اور کسی اہم عہدے پرکسی کرد کواس کی تعلیمی قابلیت کے باوجود ملازمت نہیں دی جاتی۔

سلیمانیہ میں موجود کرد نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ عائلی زندگی یا شادی بیاہ میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ وہ ایرانی رجیم سے اپنی قوم کو آزادی دلانے کے لیے لڑنے مرنے کے لیے تیار ہیں۔