.

یمنی فوج نے تعز کے شمالی اور مشرقی حصو ں کو فوجی علاقہ قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی فوج نے تعز شہر کے شمال اور مشرقی حصوں کو فوجی علاقے قرار دے دیا ہے اور شہریوں سے کہا ہے کہ وہ ان علاقوں کی جانب آنے سے گریز کریں۔تعز میں مختلف محاذوں پر یمنی فوج اور حوثی باغیوں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔

یمنی فوج نے اس سے قبل صوبہ تعز کو حوثی ملیشیا کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے ایک بڑے آپریشن کا ا علان کیا تھا۔

تعز میں یمنی فوج کے ’’بریگیڈ ماشی 22 ‘‘ کی قیادت نے حوثی ملیشیا کے جنگجوؤں پر زور دیا ہے کہ وہ مزید خون ریزی سے بچنے کے لیے ہتھیار ڈال دیں۔

صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کے تحت یمنی فوج نے گذشتہ چند روز کے دوران میں حوثیوں سے تعز کے متعدد علاقے واگزار کرا لیے ہیں۔ان میں الرثمین ،ابعر ، عدنہ لزوم ، اللصیب ، الکریفات اور تبہ الجعشاء کے بعض حصے شامل ہیں۔

یمنی فوج نے یہ فتوحات سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے فضائی حملوں اور لاجسٹیکل مدد سے حاصل کی ہیں۔

ادھر جنوبی شہر عدن میں یمنی حکومت کے ترجمان راجح بادی نے ایک بیان میں اس اطلاع کی تردید کی ہے کہ شہر میں ایک باغی مسلح ملیشیا نے صدر اور حکومت کے ارکان کو صدارتی محل میں محصور کردیا ہے۔انھوں نے واضح کیا ہے کہ صدارتی محل اور اس کے ارد گرد کے علاقے کی سکیورٹی کا ذمے دار بریگیڈ ون ہے۔