.

ایک تیونسی خاتون داعشی ہونے پر گرفتار، دوسری فرانسیسی صدر کی ہمرکاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں تناقضات کے مظہر کے طور پر خواتین کے دو مختلف رُوپ سامنے آئے ہیں۔ ان میں ایک خاتون تو شام میں داعش تنظیم سے تعلق رکھتی ہیں جب کہ دوسری کو فرانسیسی صدر امانوئل ماکروں کے طیارے میں ان کے ہمرکاب ہونے کا موقع حاصل ہوا۔

تیونسی خاتون "وحیدہ" اپنے شوہر کے داعش تنظیم سے تعلق کی پاداش میں اس وقت اپنے بیٹے کے ساتھ لیبیا کی جیلوں میں ہے۔ وہ ان درجنوں تیونسی خواتین میں سے ایک ہے جن کے شوہروں نے شدت پسند تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور شوہروں کے مارے جانے کے بعد بھی یہ خواتین اس وابستگی کے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکیں۔

دوسری جانب فرانس میں مقیم نوجوان تیونسی خاتون مہا العیساوی ہیں جو آج کل تیونس میں سوشل میڈیا پر گفتگو کا مرکز بن چکی ہیں۔

فرانسیسی صدر ماکروں کی ملک کے جنوب مشرقی شہر "کلیرمون فیران" میں اتفاقی طور پر مہا سے ملاقات ہو گئی۔ اس پر ماکروں نے انہیں اپنے طیارے میں ساتھ ہونے کی دعوت دی تا کہ وہ فرانسیسی صدر کے ہمراہ تیونس جانے والے وفد میں شامل ہو کر اپنے ملک کا دورہ کر لیں۔

فرانسیسی صدر نے بدھ کی شام سوشل میڈیا پر اپنے سرکاری صفحات کے ذریعے تیونسی خاتون مہا العیساوی کی وڈیو پوسٹ کی جو تیونس کے سرکاری دورے کے موقع پر طیارے میں اُن کے ہمراہ موجود تھیں۔ ماکروں کا یہ دورہ جمعرات کے روز اختتام پذیر ہوا۔

فرانسیسی صدر کی جانب سے پوسٹ کی گئی وڈیو کو پانچ لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا۔