.

مصر: شادی سے قبل بیوٹی پارلر جانے والی خاتون چہرہ مسخ کروا بیٹھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے شہر دمنہور کے ایک بینک میں بطور اکاؤنٹنٹ کام کرنے والی 33 سالہ "ولاء" نے اپنی شادی سے ایک ہفتے قبل 11 جنوری کو ایک بیوٹی پارلر کا رخ کیا تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔

ولاء نے بیوٹی پارلر کی انتظامیہ کو بتایا کہ وہ اپنے چہرے سے سیاہ دھبّوں کا خاتمہ چاہتی ہے جس پر اسے لیزر کے ذریعے علاج کے واسطے ایک مشہور خاتون ڈاکٹر کے حوالے کر دیا گیا۔ تاہم بدقسمتی سے "ولاء" جب بیوٹی پارلر سے باہر آئی تو اس کا چہرہ جلا ہوا اور مسخ ہو چکا تھا۔

ولاء کے وکیل عصام مہنّا نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ان کی مؤکلہ سیاہ دھبوں کے علاج کے لیے مشہور و معروف مرکز گئی۔ لیزر کارروائی کے دوران ولاء کو چہرے پر شدید تکلیف محسوس ہوئی تاہم خاتون ڈاکٹر نے اسے معمول کی بات قرار دے کر مطمئن کر دیا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ یہ محض سوزش ہے جو جلد کی کریمیں لگانے سے ختم ہو جائے گی۔

وکیل کے مطابق گھر پہنچنے تک ولاء کے چہرے پر جلنے کے آثار اور بڑے سیاہ دھبے نمودار ہو چکے تھے۔ اس کے بعد ولاء نے دو سینئر ڈاکٹروں کے پاس جا کر معائنہ کرایا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ولاء کا چہرہ سیکنڈ ڈگری تک شدید طریقے سے جھلس گیا ہے اور اس کے علاج کے واسطے ایک سال کا عرصہ درکار ہوگا۔ مزید یہ کہ علاج کے باوجود اس کے چہرے پر نشانات باقی رہیں گے۔

اس انکشاف نے ولاء کو شدید کرب اور اذیت میں مبتلا کر دیا۔ اس کی شادی بھی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی جب کہ لیزر علاج سے قبل وہ خوب صورت چہرے کی مالکہ تھی۔

ولاء کے وکیل کے مطابق مذکورہ بیوٹی سینٹر کے خلاف استغاثہ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔