.

عفرین میں ترک فوج کا آپریشن خاتمے کے قریب ہے: صدر ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ شام کے شمال مغربی شہر عفرین میں کرد ملیشیا کے خلاف فوجی آپریشن ختم ہونے کو ہے۔ہفتے کے روز ان کے اس بیان سے چندے قبل ترک فوجیوں نے عفرین میں تزویراتی اہمیت کے حامل پہاڑ دارمق کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور انھوں نے اس کی چوٹی پر ترکی کا پرچم لہرا دیا ہے۔

ترک فورسز نے جبل برصایا پر بھی قبضہ کر لیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ دارمق پہاڑ پر ان کا قبضہ بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ کردملیشیا کے جنگجو اسی کی چوٹی سے ترکی کے سرحدی شہر کلیس کی جانب بم اور میزائل پھینک رہے تھے۔

صدر ایردوآن نے کوئی ایک ہفتہ قبل آپریشن زیتون کی شاخ کو شام کے دوسرے شمالی شہروں تک بھی پھیلانے کی دھمکی دی تھی۔

انھوں نے انقرہ میں ایک تقریر میں کہا کہ ’’ ہم اس وقت تک لڑائی جاری رکھیں گے جب تک عراق تک ہماری سرحد پر دہشت گردوں کا خاتمہ نہیں ہوجاتا‘‘۔انھوں نے عفرین کے مشرق میں واقع شہر منبج کو بھی کرد ملیشیا سے پاک کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔منبج پر بھی شامی کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس ( وائی پی جی) کا قبضہ ہے۔

دو اور ترک فوجی مارے گئے

دریں اثناء عفرین میں کردملیشیا کے خلاف لڑائی کے دوران میں مزید دو اور ترک فوجی مارے گئے ہیں۔اس لڑائی میں اب تک نو ترک فوجی کام آچکے ہیں۔

ترک فوج کا کہنا ہے کہ ان میں ایک فوجی جھڑپ میں اور دوسرا سرحدی علاقے میں مارا گیا ہے لیکن اس نے مزید تفصیل نہیں بتائی۔ فوج نے ایک اور بیان میں کہا ہے کہ اس کے ایک ٹینک کو حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

صدر رجب طیب ایردوآن نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ترک فوج اور انقر ہ کے حمایت یافتہ شامی باغیوں کی کرد ملیشیا کے خلاف کارروائی میں پچیس جانیں چلی گئی ہیں۔

ادھر ترکی کے سرحد علاقے میں ایک مارٹر گولہ گرنے سے سات شہری جاں بحق ہوگئے ہیں۔ترکی نے وائی پی جی پر یہ گولہ فائر کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔اس کا مزید کہنا ہے کہ اب تک آپریشن میں سیکڑوں کرد جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں لیکن اس کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔

ترکی کا یہ موقف ہے کہ وائی پی جی بھی کرد باغیوں کی جماعت کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) ہی کی ایک شاخ ہے اور حصہ ۔وہ ان دونوں گروپوں کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ پی کے کے نے 1980ء کے عشرے سے ترکی کے جنوب مشرقی علاقوں میں مسلح بغاوت برپا کررکھی ہے جبکہ امریکا وائی پی جی کی پشت پناہی کررہا ہے اور ان کے اتحاد نے حالیہ مہینوں میں شام میں داعش کے خلاف جنگ میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔